ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا ملنے کے بعد امریکی ووٹ دینے سے متعلق کیا سوچ رہے ہیں؟

جمعہ 31 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تاریخی سزا سنائے جانے کے بعد ہونے والے ایک جائزے کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے نصف ارکان کے ان کے حق میں ووٹ دینے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں میں بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر جو بائیڈن کے درمیان وائٹ ہاؤس میں سخت مقابلے کے دوران حمایت میں چھوٹی سی تبدیلیاں بھی فیصلہ کن ثابت ہوسکتی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو ملنے والی سزا کے تناظر میں کیے گئے ’یوگوو‘ کے ایک سروے میں 27 فیصد رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ اس سزا کی وجہ سے ان کے ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دینے کے امکانات بہت کم ہیں جبکہ 26 فیصد کا کہنا تھا کہ سزا کے باوجود ان کے ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دینے کے امکانات زیادہ ہیں۔

سروے میں 39 فیصد کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے ان کے ووٹ دینے یا نہ دینے کے فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا وہ اس بات کا فیصلہ بعد میں کریں گے کہ وہ کس کو اور کس طرح ووٹ دیں گے۔

سروے میں 50 فیصد ریپبلکنز نے کہا کہ زیادہ امکانات ہیں کہ وہ ٹرمپ کو ہی ووٹ دیں۔ جب کہ 44 فیصد ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ اس بات کے امکانات کم ہیں کہ وہ ٹرمپ کو ملنے والی سزا کے بعد انہیں ووٹ دیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں جاری ہونے والے اے بی سی نیوز، ایپسوس کے ایک سروے کے مطابق ٹرمپ کے 80 فیصد حامیوں کا کہنا تھا کہ اگر ٹرمپ کو سزا سنائی جاتی ہے تو بھی وہ ان کی حمایت جاری رکھیں گے۔

مزید 16 فیصد نے کہا کہ وہ اپنی حمایت پر نظر ثانی کریں گے ، لیکن صرف 4 فیصد نے کہا کہ وہ اب ان کی حمایت نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ نومبر میں ہونے والے انتخابات میں مہینوں باقی رہ گئے ہیں اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس اس فیصلے کے نتیجے میں کھوئی ہوئی کسی بھی حمایت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کافی وقت باقی ہے۔

تاہم، رائے عامہ کے جائزوں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ رائے دہندگان فرضی سزا سے پہلے اور بعد میں بائیڈن کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے جاری ہونے والے مارکوئٹ لاء اسکول کے ایک سروے میں رائے دہندگان سے پوچھا گیا تھا کہ اگر ٹرمپ کو بری کر دیا گیا تو وہ کس طرح ووٹ دیں گے۔

دوسرے مرحلے کے سروے میں پوچھا گیا کہ اگر ٹرمپ قصوروار پائے جاتے ہیں تو وہ کس طرح ووٹ دیں گے جس کے بعد سامنے آنے والے نتیجہ میں جو بائیڈن نے ٹرمپ کو 4 پوائنٹس سے شکست دی۔

گزشتہ ماہ جاری ہونے والے ایک سروے میں بتایا گیا تھا کہ جو بائیڈن نے ٹرمپ کے مقابلے میں 2 پوائنٹس حاصل کیے تھے۔

سزا سنائے جانے سے پہلے کے سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ٹرمپ نے 6 اہم ریاستوں میں سے 5 میں جو بائیڈن کو شکست دی ہے، جس میں کامیابی کی بڑی وجہ نوجوان، سیاہ فام اور ہسپانوی ووٹروں کی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہمدردی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پٹاخے بنانے والی فیکٹری میں دھماکا، 23 مزدور ہلاک، متعدد زخمی

دنیش ترویدی بنگلہ دیش میں نئے بھارتی ہائی کمشنر ہوں گے؟

بلغاریہ میں روس نواز سابق صدر رومین رادیف عام انتخابات میں بڑی کامیابی کے قریب

متحدہ عرب امارات کی تاریخ میں پہلی بار 5 کرکٹرز کو شہریت مل گئی، قومی ٹیم میں شامل

پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کیا ہے، کیا اب ورچوئل کرنسی بھی عام کرنسی کی طرح کام کرے گی؟

ویڈیو

پاکستان دنیا بھر میں امن کا سفیر بن کر سامنے آیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

‘پاؤں نہیں مگر ہاتھ تو ہیں نا’، فور ویل بائیکیا چلا کر گھر کی کفالت کرنے والا باہمت نوجوان

کالم / تجزیہ

پاکستان مسلم دنیا کا قائد اور اقوام عالم میں قابل اعتبار ثالث

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟