بلین ٹری منصوبے کے تحت لگائے گئے آدھے درخت ختم ہوچکے، جسٹس منصور علی شاہ

پیر 3 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ میں موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ بلین ٹری منصوبے کے تحت لگائے گئے آدھے درخت ختم ہوچکے ہیں۔

وفاقی حکومت کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن پیش کردیا، اتھارٹی تو قائم ہوگئی مگر فعال کب ہوگی۔

وفاقی حکومت کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اتھارٹی کے ممبران کی تعیناتی کے لیے اشتہار جاری کردیا ہے، 2 ماہ میں عمل مکمل ہوگا۔

’وفاقی و صوبائی حکومتوں کا رویہ سنجیدہ نہیں‘

 جسٹس منصور علی شاہ  نے سوال کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے لیے کوئی ٹھوس اقدام کیا ہے تو بتائیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل بولے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کا رویہ سنجیدہ نہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ  نے استفسار کیا کہ پنجاب حکومت اب تک موسمیاتی تبدیلی کی پالیسی کیوں نہیں بنا سکی اور پنجاب حکومت نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ محکموں سے رپورٹس منگوائی ہیں۔ عدالت نے پنجاب حکومت کے اس حوالے سے عملی اقدامات بارے سوال کیا تو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کچھ پیش نہ کرسکے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ حیرت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پنجاب حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔

’صرف درخت لگانا نہیں، ان کی دیکھ بھال بھی ضروری ہے‘

ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کیا تھا، منصوبے کے تحت 70 لاکھ درخت لگائے گئے۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے عدالت کو مزید بتایا کہ اقوام متحدہ نے بھی بلین ٹری سونامی منصوبے کو تسلیم کیا۔ جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ بلین ٹری منصوبے کے تحت لگائے گئے آدھے درخت ختم ہوچکے ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے مزید کہا کہ صرف درخت لگانا نہیں ہوتے، ان کی دیکھ بھال بھی کرنی ہوتی ہے، تمام چیف سیکریٹریز سے پالیسیز بنانے اور عملدرآمد سے متعلق پیشرفت بارے پوچھیں گے۔

سپریم کورٹ نے سیکریٹری ماحولیاتی تبدیلی اور چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔ عدالت نے  چاروں چیف سیکریٹریز کو بذریعہ ویڈیو لنک پیش ہونے کی ہدایت کی اور کیس کی مزید سماعت یکم جولائی تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 11 مئی کو وفاقی حکومت کو 2 ہفتے میں موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی قائم کرنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی قائم نہ ہونے سے عوام کے بنیادی حقوق پر سنگین اثرات ہوں گے۔

سپریم کورٹ نے موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام کی 6 مئی 2024 کی سماعت کے تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے قیام کے ساتھ حکومت اس کے لیے فنڈز کا بندوبست بھی کرے، موسمیاتی تبدیلی عوام کو درپیش سب سے سنگین خطرہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ کا اہم آئینی فیصلہ: نیب مقدمات میں اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت ہی سنے گی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 3 روپے 66 پیسے، ڈیزل 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر مہنگا

گلوبل سپر لیگ: لاہور قلندرز نے ڈیزرٹ وائپرز کو 38 رنز سے شکست دے دی

کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی کے ماڈل نے ٹیسٹ کے دوران حدود توڑ دیں

مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی

ویڈیو

پاکستان کا دوٹوک انتباہ، حوثی باغیوں کی خیر نہیں، ایران کا بڑا اعلان، امریکا کی چال بھی ناکام

مودی نے طلبا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، بھارتی ایجنسی کس طرح پاکستانی صحافیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے؟

قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے

کالم / تجزیہ

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

شفاف انتخابات کا فریب