خیبرپختونخوا کے ضلع اپر چترال میں تقریباً ساڑھے 12 ہزار فٹ کی بلندی پر ’دنیا کی چھت‘ کہلائے جانے والے شندور میں پولو گراؤنڈ کے ساتھ قدرتی جھیل بھی واقع ہے، جوسرسبزشندورکی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتی ہے۔
اپر چترال سے شندور کی طرف سفر کرتے ہوئے آخری گاؤں لاسپور کے بعد زگ زیگ راستہ شروع ہوجاتا ہے، جس کے اختتام پر سرسبز میدان میں رکا ہوا پانی ایک جھیل کی شکل میں نظر آتا ہے، جسے شندور جھیل کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں شندور پولو فیسٹیول کا آغاز، بڑی تعداد میں ملکی و غیرملکی سیاح پہنچ گئے
جھیل کے چاروں طرف جہاں تک نظر جاتی ہے برفیلے جانور یاک نظر آتے ہیں جو پانی کے لیے جھیل کے چاروں طرح ڈیرے ڈالے ہوتے ہیں۔
مقامی سیاح ارشاد علی دوستوں کے ساتھ گھومنے شندور آئے ہیں، جو شندور سے ہوکر گلگت بلتستان بھی جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ارشاد علی نے بتایا کہ کسی بھی سیاحتی مقام پر پانی ہو تو اس کی خوبصورتی دوبالا ہو جاتی ہے، اور شندور میں بالکل ایسے ہی ہے۔

’اس سرسبز میدان کی اصل خوبصورتی یہاں واقع یہ قدرتی جھیل ہی ہے، جس کے کنارے بیٹھ کر تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے‘۔
’جھیل پہاڑی کے درمیان واقع ہے‘
ارشاد علی نے بتایا کہ شندور جھیل شندور پولو گراؤنڈ کے ساتھ پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے، جس میں پانی نہیں آتا اور نہ جھیل کا پانی بہتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جھیل کے چاروں طرف میدان ہے، اور کہیں سے بھی پانی نہیں آتا۔ ’ہم ہر سال شندور آتے ہیں، اس جھیل کا پانی آج تک کبھی کم ہوا نہ زیادہ‘۔
ارشاد نے بتایا کہ چترال میں جہاں بھی جھیل یا دریا ہیں اس کے اوپر پہاڑی میں برف یا گلیشیئر ہوتے ہیں اور گرمی میں برف پگھلنے سے پانی زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن شندور میں صورتحال مختلف ہے۔
انہوں نے کہاکہ جھیل چاروں طرف سے صاف نظر آتی ہے، لیکن کہیں سے بھی اس میں پانی آتا ہوا نظر نہیں آتا، نہ ہی اوپر کہیں برف یا گلیشیئر ہے۔
یہ بھی پڑھیں غیرمتوقع برف باری آڑے آگئی، شندور پولو فیسٹیول ملتوی
شاہد علی خان یفتالی کا تعلق لاسپور وادی ہے، شندور لاسپور وادی کی چراگاہ ہے، جس کی وجہ سے لاسپور کے باسیوں کا شندور آنا جانا قدرے زیادہ ہے۔
شاہد یفتالی نے بتایا کہ شندور جھیل ایک قدرتی جھیل ہے، یہ قدیم دور میں کافی بڑی اور گہری ہوتی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ پانی کی سطح کم ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہوسکتا ہے جھیل کے اندر قدرتی چشمے ہوں، لیکن کسی کو اس حوالے سے کچھ نہیں معلوم۔

انہوں نے کہاکہ برف باری اور زیادہ بارشوں سے جھیل میں پانی بڑھ جاتا ہے، لیکن کچھ سالوں سے برف باری میں کمی آئی ہے جس کی وجہ سے جھیل کے پانی پر بھی اثر پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں ‘موسم بہانا ہے مگر شندور فیسٹیول ملتوی ہونے کی وجوہات سیاسی ہوسکتی ہیں‘
انہیں خدشہ ہے کہ ایک دن جھیل خشک نہ ہو جائے۔ ’یہ جھیل شندور کی خوبصورتی ہے، اس کے علاوہ ہمارے جانوروں کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے، کیونکہ پانی کے بغیر زندگی مشکل ہوجاتی ہے‘۔
جھیل کے حوالے سے مزید جانیے اس رپورٹ میں













