نور مقدم قتل کیس کی سماعت جون کے پہلے ہفتے تک ملتوی، عدالت کا عملے کو خصوصی ہدایت

بدھ 13 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت جون کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ عدالت نے کیس کی نوعیت اور طوالت کے پیش نظر اہم انتظامی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:نور مقدم قتل کیس: مجرم ظاہر جعفر کی نظرِ ثانی اپیل پر سماعت کیوں ملتوی ہوئی؟

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ مقدمہ ابھی طویل چلنا ہے، اس لیے اسے عید کے بعد سنا جائے گا۔

عدالت نے عملے کو ہدایت کی کہ جس دن نور مقدم قتل کیس مقرر کیا جائے، اس دن کوئی اور کریمنل کیس نہ لگایا جائے تاکہ سماعت بلا تعطل جاری رہ سکے۔

سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ کیس کو جون کے پہلے ہفتے میں مقرر کر دیا جائے گا، اور اس روز عدالت میں صرف اسی مقدمے کی سماعت کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:نور مقدم قتل کیس: ظاہر جعفر کی اپیل مسترد، جسٹس باقر نجفی کا اختلافی نوٹ سامنے آگیا

ملزم ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے آئندہ تاریخ جون کے پہلے ہفتے میں مقرر کرنے کی ہدایت جاری کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے