اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں میں ہفتے کی چھٹی ختم، نوٹیفیکیشن جاری

جمعہ 2 اگست 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزارت تعلیم نے اسلام آباد کے تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں ہفتے کی چھٹی ختم کردی ہے۔

وفاقی وزارت تعلیم و پروفیشنل تربیت کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق، اسلام آباد کے تمام تعلیمی اداروں میں ہفتے کے روز چھٹی کے فیصلے کا اطلاق 10 اگست سے ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں اسکولوں کے نئے اوقات کار کا اعلان

نوٹیفیکیشن کے مطابق، ہفتہ کے روز تعلیمی اداروں میں مختلف مضامین میں کمزور بچوں پر توجہ دی جائے گی جبکہ طلبہ کے لیے اسپورٹس اور مائینڈ گیمز سمیت مختلف غیرنصابی سرگرمیوں کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔

وزارت تعلیم کے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ سیشنز 2 گھنٹے کے لیے ہوں گے اور ان سیشنز میں شرکت طلبہ کے لیے لازمی نہیں ہوگی جبکہ اسکول اسٹاف کے لیے ڈیوٹی کے اقات کار ہفتے کے روز بھی معمول کے مطابق ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کا ایک سرکاری اسکول جو پرائیویٹ اسکولوں سے کسی طرح کم نہیں

اسلام آباد کے تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں ہفتے کے روز اسکول کھلے رکھنے سے متعلق فیصلہ سیکریٹری وفاقی تعلیم وپیشہ ورانہ تربیت کے احکامات پر کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی فوج کا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تربیتی پرواز کے دوران حادثے کا شکار، عملہ محفوظ

روات قلعے سے وادی کیلاش تک: پاکستان کے کونسے 12 تاریخی ورثے عالمی شناخت کی دوڑ میں شامل ہیں؟

پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ لگ بھگ 42 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے حامی اپوزیشن اتحاد قبول کریں گے؟ پشاور کے شہریوں کی رائے

پی ٹی آئی اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری

ویڈیو

پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ لگ بھگ 42 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے حامی اپوزیشن اتحاد قبول کریں گے؟ پشاور کے شہریوں کی رائے

پی ٹی آئی اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری

کالم / تجزیہ

‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ

اِکّو اَلف تیرے دَرکار

مولانا کیا چاہتے ہیں؟