بجلی کی قیمت میں ایک روپے 74 پیسے فی یونٹ اضافہ، صارفین پر کتنا بوجھ پڑے گا؟

بدھ 11 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمت میں مزید ایک روپے 74 پیسے فی یونٹ اضافہ کردیا  ہے۔

اوگرا کے جاری نوٹیکفکیشن کے مطابق نیپرا نے سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی مہنگی کردی، بجلی اپریل تا جون 2024 کی سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مہنگی بجلی: 10 برسوں میں آئی پی پیز قوم کے کتنے کھرب روپے لے اڑیں؟

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ صارفین سے بجلی کی قیمت میں اضافےکی وصولی ستمبر تا نومبر 2024 کے 3 ماہ میں کی جائے گی، جس سے صارفین پر 43 ارب 23 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

واضح رہے کہ 2 روز قبل ہی سابق واپڈا کی تقسیم کار کمپنیوں کو 43.23 ارب روپے کی فراہمی کے لیے نیپرا نے ملک بھر میں 3 ماہ کے لیے ستمبر سے نومبر تک کے لیے بجلی کے نرخوں میں تقریبا ایک روپے 74 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: بجلی بل میں میونسپل ٹیکس لگانے پر شہری کا انوکھا احتجاج

نیپرا کے مطابق مالی سال 24-2023 کی چوتھی سہ ماہی کے لیے 4323 ارب روپے کی مثبت سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے، جو 3 ماہ یعنی ستمبر سے نومبر 2024 کے دوران تقریبا ایک روپے 74 پیسے فی کلو واٹ گھنٹہ کے یکساں نرخ پر لاگو ہوگی، یہ اضافہ کے الیکٹرک سمیت لائف لائن اور پری پیڈ صارفین کے علاوہ تمام صارفین پر لاگو ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شدید فضائی جھٹکوں سے مسافر کی ہلاکت، بیوہ کا سنگاپور ایئرلائنز کے خلاف عدالت سے رجوع

حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار، خصوصی کمیٹی قائم

چین کی اہم دریا سے سمندر تک نہر کی تعمیر مکمل، ستمبر میں کھولنے کی تیاری

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں