لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک نئے ڈی جی آئی ایس آئی تعینات

پیر 23 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کر دیا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک 30 ستمبر 2024 کو اپنی نئی ذمہ داری سنبھالیں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم اس وقت جی ایچ کیو میں ایڈجوٹنٹ جنرل کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو فوجی تحویل میں لے لیا گیا، کورٹ مارشل کی کارروائی شروع

لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک موجودہ سربراہ آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی جگہ لیں گے، جنہیں 2021 میں اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے تعینات کیا تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اس سے پہلے بلوچستان میں انفنٹری ڈیویژن اور وزیرستان میں انفنٹری بریگیڈ کمانڈ کرچکے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم اپنے کورس میں اعزازی شمشیر بھی حاصل کرچکے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم اس سے پہلے ملٹری آپریشنز

 ڈائریکٹوریٹ میں بھی فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔

مزید پڑھیں:سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی سردار نجف حمید راولپنڈی سے گرفتار

لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک چیف انسٹرکٹر این ڈی یو اور انسٹرکٹر کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ بھی تعینات رہ چکے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم فورٹ لیون ورتھ اور رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز کے گریجویٹ بھی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران پر حملے جاری رکھنے کے اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ مندی کی نذر

وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس، صوبے میں مفت علاج اور صحت کے 4 بڑے منصوبوں کا جائزہ

جمعہ کے روز آن لائن کلاسز کی اجازت، وزیر تعلیم پنجاب کا اعلان

’فرانسیسی صدر کی اہلیہ بہت برا سلوک کرتی ہیں، وہ اب بھی بیوی کے حملے سے صحتیاب نہیں ہوسکے‘، ڈونلڈ ٹرمپ

بھارتی ٹرین میں ملنے والا کھانا مسافر خاتون کے لیے بدترین الرجی کا باعث بن گیا

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟