لورالائی کے 90 فیصد زمیندار پھلوں کے باغات لگانا کیوں چھوڑ رہے ہیں؟

جمعرات 26 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ویسے تو پورا صوبہ بلوچستان پھلوں اور خشک میوہ جات کے لیے مشہور ہے جس کی وجہ سے اسے پھلوں کی ٹھوکری بھی کہا جاتا ہے لیکن اس میں ضلع لورالائی خاص طور پر سیب، انار، خوبانی اور کئی اقسام کے بادام کی پیداوار کے لیے خاص شہرت رکھتا ہے۔

لیکن گزشتہ چند برسوں سے لورالائی میں زرعی رجحان تبدیل ہو رہا ہے اور یہاں کے باغبان اپنے باغات ختم کر کے گوبھی اگانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایک درخت پر 22 پھل، قدرت کا کرشمہ یا پیوندکاری کا شاہکار؟

ایک وقت تھا کہ 28 سالہ محمد امین کے باغات بادام، خوبانی اور سیب سے لدے ہوتے تھے لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا کہ ان کے پھلدار درختوں کو بیماری لگ گئی جس کی وجہ سے انہیں زیادہ تر درخت کاٹنے پڑگئے۔ اب محمد امین اپنے باغات کی زمینوں میں گوبھی کاشت کرتے ہیں۔

محمد امین نے وی نیوز کو بتایا کہ باغات سال میں ایک دفعہ پھل دیتے ہیں جبکہ گوبھی کی فصل سال میں 2 سے 3 مرتبہ ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں باغبان پھلوں سے سال میں 8 سے 10 لاکھ روپے کماتے تھے وہیں اب وہ گوبھی اگا کر سالانہ 20 سے 30 لاکھ روپے تک کما رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ لورالائی کے باغبان اب پھلدار درخت کاٹ کر ان کی جگہ گوبھی کاشت کر رہے ہیں جس کی فصل تقریباً 3 مہینوں کے اندر تیار ہو جاتی ہے اور پھلوں کی نسبت 3 گنا زیادہ منافع دیتی ہے۔

مزید پڑھیے: ہاتھوں سے محروم بلوچستان کے ادیب جنہوں نے پاؤں سے 19 کتابیں لکھیں

محمد امین کہتے ہیں کہ لورالائی میں اب تقریباً 90 فیصد باغبان گوبھی کے  کاشتکار بن چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ 2 سے 3 فیصد دھنیا جبکہ اتنی ہی شملہ مرچ اور ٹماٹر کی فصل کاشت کی جا رہی ہے۔

پھل اور گوبھی ایک ساتھ کیوں نہیں؟

ایک سوال کے جواب میں محمد امین نے بتایا کہ گوبھی اور پھلدار درخت ایک ساتھ نہیں اگائے جاسکتے کیونکہ گوبھی کی فصل کے لیے دھوپ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور اگر اسے درختوں کے درمیان اگایا جائے تو اس کا پھول نکلنے میں زیادہ وقت لگ جاتا ہے جبکہ اکثر اوقات درختوں کے سائے کی وجہ سے گوبھی کی فصل پروان چڑھتی ہی نہیں۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں کون کون سے سیاحتی مقامات موسم گرما میں گھومے جاسکتے ہیں؟

محمد امین کے بقول گوبھی کی فصل کو درختوں کے مقابلے میں زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے جسے پورا کرنے کے لیے وہ شمسی توانائی کے ذریعے زیر زمین پانی نکالتے ہیں اور فصل کو سیراب کرتے ہیں۔

محکمہ آبپاشی بلوچستان کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان کے 20 اضلاع میں زیر زمین پانی کی سطح اوسطاً 400 فٹ نیچے ہے اور یہ سطح دن بہ دن نیچے جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میر رضا قتل کیس: 19 روز بعد سندھ پولیس نے خاموشی توڑ دی، طبی اور ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ جاری

شامل حسین اور سعد خان کی سینچریاں، شاہین کی تباہ کن بولنگ، پاکستان گولڈ نے نیشنل چیمپیئنز کپ جیت لیا

عمران خان کے لیے این آر او حاصل کرنے کی پی ٹی آئی کی خواہش نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے، خواجہ آصف

ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی کا نیتن یاہو کو غزہ امن منصوبے میں رکاوٹیں نہ ڈالنے کا مشورہ

جی سی ایس ای کے بعد ٹی لیولز، گریڈز کتنے اہم اور اے لیولز سے کیسے مختلف، اس کورس کا پاکستان میں کیا مستقبل ہے؟

ویڈیو

پاکستان میں خواتین معذوری کے ساتھ کن مسائل کا سامنا کرتی ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’سفید جھنڈا لہرانے‘ کا مشورہ، ایرانی حکام کو ماہر کھلاڑی بھی قرار دے دیا

6 ماہ کے اندر نئے صوبے بنانے کا فیصلہ، کیا نئی آئینی ترمیم آرہی ہے؟

کالم / تجزیہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟

انتقال کے 29 برس بعد