تحریک انصاف نے ڈی چوک میں احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کردیا

پیر 7 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں بانی چیئرمین عمران خان کی کال پر آئین کی حرمت، عدلیہ کی آزادی اور قوم کی حقیقی آزادی کے لیے جاری پرامن احتجاج کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پرامن احتجاج جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

تنظیمی ذمہ داران، ٹکٹ ہولڈرز اور اراکینِ صوبائی اسمبلی کو ڈی چوک پر جاری پرامن احتجاج میں عوام اور کارکنان کی شرکت کو مربوط انداز میں یقینی بنانے کی خصوصی ہدایت کی گئی۔

غزّہ پر قابض اسرائیل کے انسانیت سوز حملوں کو ایک سال مکمل ہونے پر جماعتِ اسلامی پاکستان کے ساتھ آج (7 اکتوبر) کے لیے طے شدہ پروگرام کے تحت احتجاج میں شرکت کی بھی توثیق کی گئی۔

سفّاک سرکار کے ظالمانہ ہتھکنڈوں اور شرانگیز اہداف کو مدِنظر رکھ کر کارکنان اور عوام کی پرامن احتجاج میں شرکت کے لیے انتظامات ترتیب دینے کی ہدایت  کی گئی۔

 اعلامیہ کے مطابق ترامیم کے ذریعے دستور کا حلیہ بگاڑنے اور ملک کو جمہوریت کا قبرستان بنانے کی  کوششوں کی پرزور مزاحمت سے کسی طور دستبردار نہ ہونے پر اتفاق کیا گیا۔

 مزید براں مینڈیٹ چوروں اور فارم سینتالیس زدہ سیاسی مسخروں کے ذریعے پاکستان کو ایکسٹینشن مافیا کی چراگاہ بنانے کی ہر خفیہ و اعلانیہ کوشش کی بھرپور مزاحمت پر بھی اتفاق کیا گیا۔

 سیاسی کمیٹی نے کمال استقامت، حوصلے اور ثابت قدمی سے نکلنے اور تصادم اور اشتعال سے مکمل گریز کرتے ہوئے ڈی چوک پہنچنے والے کارکنان خصوصاً انصاف یوتھ ونگ اور انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نوجوانوں اور عوام  کو دلی مبارکباد دی۔ اور کہا گیا کہ نہایت نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے اور جبر کو اپنے صبر و استقامت سے شکست دے کر شرانگیزی کے سرکاری منصوبے خاک میں ملا کر پرامن احتجاج کے شرکا نے تاریخ رقم کی ہے۔

اعلامیہ میں خوف اور جبر کے ماحول میں نتائج کی پرواہ کیے بغیر پُر امن احتجاج کے شرکا کی میزبانی کا فریضہ سرانجام دینے پر اسلام آباد اور راولپنڈی کے باسیوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا۔

 تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی کال پر لاکھوں پاکستانیوں نے پرامن احتجاج میں براہِ راست یا بالواسطہ شرکت کرکے ثابت کردیا ہے کہ قوم اپنی حقیقی آزادی پر کسی قسم کے سمجھوتے پر تیار نہیں۔

’اڈیالہ میں ناحق قید قوم کے مقبول اور معتبر ترین قائد کی ہدایات اور رہنمائی میں پیش قدمی جاری رکھیں گے اور منزل تک پہنچ کر دم لیں گے۔‘

اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ مینڈیٹ چور سرکار ریاستی قوت کے اندھے استعمال سے دستور پامال کرنے، اس کا حلیہ بگاڑنے اور ریاستی ڈھانچے میں خطرناک بگاڑ پیدا کرنے سے باز آئے اور آئین بدلنے کا خیال ترک کرے۔

’آئین اور جمہوریت نواز طبقات آگے بڑھیں اور ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے ریاستی جبر و فسطائیت برداشت کرنے والے پرامن احتجاج کے شرکاء کی آواز میں آواز ملائیں۔‘

سیاسی کمیٹی کی جانب سے پرامن احتجاج میں شرکت کے لیے نکلنے والے سینکڑوں کارکنان اور شہریوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی گئی اور ان سب کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

اور کہا گیا کہ پرامن احتجاج میں شرکت کے بعد واپس لوٹنے والے شہریوں اور کارکنان کی گرفتاری نہایت بیہودہ اور بزدلانہ اقدام ہے، حکومت شہریوں کی بلاجواز پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بند کرے۔

سیاسی کمیٹی نے انصاف لائرز فورم کو گرفتار شہریوں اور کارکنان کی رہائی کیلئے بھرپور قانونی معاونت کی فراہمی یقینی بنانے کی خصوصی ہدایت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp