آئینی ترمیم، حکومتی ڈرافٹ کے بعد پیپلز پارٹی کا مسودہ بھی سامنے آگیا

جمعہ 18 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

26 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومتی ڈرافٹ کے بعد اب پیپلز پارٹی کا مسودہ بھی سامنے آگیا ہے، جس میں آئینی عدالت، اس کے ججز کی عمر اور چیف جسٹس کی مدت ملازمت سے متعلق نکات شامل ہیں۔

پیپلز پارٹی کے مسودے میں آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام اور آئین میں نیا آرٹیکل 176 اے شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم کے لیے حکومت کو قومی اسمبلی میں مزید کتنے ووٹ درکار؟

پیپلز پارٹی کے مسودے میں تجویز کیا گیا ہے کہ آئینی عدالت کے ججز 68 سال کی عمر تک کام کرتے رہیں گے۔ پیپلز پارٹی نے آئین کے آرٹیکل 179 میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کی مدت 3 سال ہوگی۔

حکومتی مسودے میں کیا ہے؟

واضح رہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم پر پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں آئینی بینچ کی تشکیل پر اتفاق ہوگیا ہے۔ گزشتہ روز سید خورشید شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے آئینی ترمیم کا مسودہ پیش کیا گیا جس میں آئینی عدالت کا ذکر نہیں تھا۔

آئینی ڈویژن کا قیام

میڈیا رپورٹس کے مطابق، پارلیمانی خصوصی کمیٹی میں پیش حکومتی ڈرافٹ میں آئینی عدالت کا ذکر نہیں ہے۔ حکومتی مسودے میں آرٹیکل 191 میں ترمیم تجویز کی گئی ہے، سپریم کورٹ کا آئینی ڈویژن تشکیل دینے کی بھی تجویز دی گئی ہے آئینی ڈویژن کے ججوں کے تعین کا اختیار جوڈیشل کمیشن کو دینے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ آئینی ڈویژن میں چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے ججز کی یکساں تعداد  رکھی گئی ہے۔ حکومتی مسودے میں آرٹیکل 184 (3) کے تحت ازخود نوٹس کا اختیار بھی آئینی ڈویژن کو دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم کا معاملہ: کیا مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی آئینی عدالتوں کے قیام سے پیچھے ہٹ گئیں؟

سپریم کورٹ کے ججز کی تقرری

علاوہ ازیں، سپریم کورٹ کے ججز کے تقرر کے لیے کمیشن کی تجویز دی گئی ہے، چیف جسٹس کی سربراہی میں 13 رکنی کمیشن میں سپریم کورٹ کے چار سینیئر ترین ججز بھی بطور رکن شامل ہوں گے، کمیشن کا نامزد کردہ سابق چیف جسٹس یا جج بھی 2 سال کے لیے کمیشن کا رکن ہوگا، وفاقی وزیر قانون اور اٹارنی جنرل بھی کمیشن کے اراکین ہوں گے، کم سے کم 15 سال تجربے کا حامل پاکستان بار کونسل کا نامزد کردہ وکیل 2 سال کے لیے کمیشن کا رکن ہوگا، قومی اسمبلی اور سینٹ کے 2، 2 ارکان بھی کمیشن کے رکن ہوں گے۔

چیف جسٹس کی تقرری

حکومتی مسودے کے مطابق، سپریم کورٹ کے 3 سینیئر ترین ججوں میں سے ایک کو چیف جسٹس مقرر کیا جائے گا، چیف جسٹس کے تقرر کے لیے پارلیمانی کمیٹی 12 رکنی ہوگی، کمیٹی میں 8 ارکان قومی اسمبلی اور 4 ارکان سینٹ شامل ہوں گے، پارلیمانی کمیٹی میں تمام پارلیمانی پارٹیوں کی متناسب نمائندگی ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لائیومشرق وسطیٰ جنگ: امریکا کی ایران کو مزید شدت سے حملوں کی دھمکی، تہران کا جواب دینے کا اعلان، مذاکرات سے انکار

مشرق وسطیٰ کشیدگی: پیٹرول کے بعد ایل پی جی کے 2 جہاز بھی پورٹ قاسم پر لنگر انداز

رجب بٹ کا اہلیہ کو طلاق دینے کے بعد نیا بیان، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا

افغانستان کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی بھارتی سازش کو برداشت نہیں کریں گے، پاکستانی مندوب

مشرق وسطیٰ کشیدگی: سعودی عرب کی مملکت سمیت دیگر عرب ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت

ویڈیو

کیا ہر بہترین دوست واقعی زندگی بھر کا ساتھی ہوتا ہے؟

پیوٹن سے سفارشیں، ٹرمپ کی دوڑیں، جنگ ختم کرنے کا اعلان، آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی اجازت مگر صرف ایک شرط پر

’برڈ آف ایشیا‘، 400 سے زیادہ میڈلز جیتنے والے پاکستانی ایتھلیٹ صوبیدار عبدالخالق کون تھے؟

کالم / تجزیہ

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟