سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خبر، سپریم کورٹ نے فیصلہ جاری کردیا

جمعہ 18 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کے بچوں کے سرکاری ملازمتوں میں کوٹے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کردیا۔

سرکاری ملازمین کے بچوں کے کوٹہ سے متعلق کیس کا 11 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس نعیم افغان نے تحریر کیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں سرکاری ملازمین کے بچوں سے متعلق تمام پالیسوں، پیکجز اور کوٹے کو غیرآئینی قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کے بچوں کو نوکریاں دینے کی پالیسی پر فیصلہ محفوظ کرلیا

سپریم کورٹ نے جی پی او کی اپیل منظور کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا 2021 کا فیصلہ  اور کوٹہ سے متعلق وزیراعظم پیکیج فار ایمپلائمنٹ پالیسی اور اس کا آفس میمورینڈم کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے سندھ سول سرونٹس رولز 1974 کے سیکشن 11 اے اور خیبرپختوانخوا سول سرونٹس رولز 1989 کے سیکشن 10 کی ذیلی شق 4 کو بھی کالعدم قرار دیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق، بلوچستان سول سرونٹس رول 2009 کی شق 12 بھی کالعدم قرار پائی جبکہ اشتہار یا اوپن میرٹ کے بغیر بیوہ یا بچے کا سرکاری ملازمت میں کوٹہ آئین کے آرٹیکل 3 آرٹیکل 4، آرٹیکل 5 کی ذیلی شق 2، آرٹیکل 25 اور آرٹیکل 27 سے متصادم قرار پائی ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاق سمیت تمام صوبائی حکومتیں اشتہار یا اوپن میرٹ کے بغیر سرکاری ملازمین کے بچوں کو ملازمت دینے کی پالیسی ختم کریں۔

 عدالتی فیصلے کا اطلاق کس پر نہیں ہوگا؟

عدالتی فیصلے کا اطلاق پہلے سے سرکاری ملازمین کے بچوں کو ملنے والے کوٹے پر نہیں ہوگا۔ عدالتی فیصلے کا اطلاق دہشتگردی کے واقعات میں شہید ہونے والے افراد کے قانونی ورثا پر بھی نہیں ہوگا۔ عدالتی فیصلے کا اطلاق شہدا کے ورثا کو ملنے والے پیکیجز اور پالیسیز پر نہیں ہوگا۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو بھی کوٹے سے متعلق قوانین نرم کرنے کا اختیار نہیں ہے، اچھی طرز حکمرانی کا حصول غیرمساوی سلوک اپنا کر حاصل نہیں کیا جاسکتا، کوٹے کے تحت ملازمتوں کا حصول میرٹ کے برخلاف ہونے کے ساتھ ساتھ امتیازی سلوک بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کے بچوں کو نوکریاں دینے کا معاملہ، چیف جسٹس برہم ہوگئے

واضح رہے کہ شہری محمد جلال نے اپنے والد کی طبی بنیادوں پر ریٹائرمنٹ کے بعد چوتھے درجہ کی ملازمت کے حصول کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ پشاور ہائیکورٹ نے محمد جلال کو کنٹریکٹ پر ملازمت کی ہدایت دی تھی۔ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف جی پی او نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

سپریم کورٹ نے 26 ستمبر کو کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ سرکاری ملازمین کے بچوں کو کوٹے پر ملازمت دینے سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم