انڈونیشیا نے آئی فون 16 کی فروخت پر پابندی لگادی، وجہ کیا بنی؟

منگل 29 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انڈونیشیا کی وزارت صنعت نے ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کو انڈونیشیا میں اپنے آئی فون 16 اسمارٹ فونز کی فروخت سے روک دیا ہے کیونکہ ایپل نے مقامی طور پر تیارکردہ اجزا کے استعمال سے متعلق ملکی قوانین پر عملدرآمد نہیں کیا ہے۔

وزارت صنعت کے ترجمان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈونیشیا میں فروخت ہونے والے اسمارٹ فونز کے لیے لازم ہے کہ وہ مقامی طور پر تیار کردہ کم از کم 40 فیصد پرزہ جات پر مشتمل ہوں، لیکن آئی فون 16 نے اس ضرورت کو پورا نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایپل کے آئی فون 16 میں کیا خاص بات ہے

’درآمد شدہ آئی فون 16 ہارڈویئرز کی ملک میں مارکیٹنگ نہیں کی جا سکتی کیونکہ ایپل انڈونیشیا نے مقامی مواد کا سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کے لیے اپنی سرمایہ کاری کے وعدے کو پورا نہیں کیا، ذاتی استعمال کے لیے فون اب بھی بیرون ملک لائے جاسکتے ہیں جب تک صارفین واجب الادا ٹیکس ادا کرتے رہیں۔‘

ایپل نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا، جبکہ کمپنی کے آئی فون 16 فون پہلی بار رواں برس ستمبر میں جاری کیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:جاز سرکاری شراکت کے ساتھ پاکستان میں آئی فون 16 لارہا ہے

’درآمد شدہ آئی فون 16 ہارڈویئرز کی ملک میں مارکیٹنگ نہیں کی جا سکتی کیونکہ ایپل انڈونیشیا نے مقامی مواد کا سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کے لیے اپنی سرمایہ کاری کے وعدے کو پورا نہیں کیا، ذاتی استعمال کے لیے فون اب بھی بیرون ملک لائے جاسکتے ہیں جب تک صارفین واجب الادا ٹیکس ادا کرتے رہیں۔‘

ایپل نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا، جبکہ کمپنی کے آئی فون 16 فون پہلی بار رواں برس ستمبر میں جاری کیے گئے تھے، انڈونیشیا میں 2024 کی پہلی سہ ماہی میں اسمارٹ فون بنانے والے سرفہرست دو کمپنیوں میں ایک چینی فرم اوپو اور جبکہ جنوبی کوریائی فرم سیم سنگ تھیں۔

مزید پڑھیں: ایپل کی آئی او ایس 18 اپ ڈیٹ جاری: ’اب آئی فون گم یا چوری ہونے کی صورت میں استعمال کرنے کے قابل ہوگا؟‘

انڈونیشیا کی ایک بہت بڑی ٹیکنالوجی سے مانوس آبادی ہے، جو جنوب مشرقی ایشیائی قوم کو ٹیکنالوجی سے متعلقہ سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم ہدف مارکیٹ بناتی ہے۔

ایپل کے سی ای او ٹم کک کے گزشتہ اپریل میں انڈونیشیا کے دورے کے دوران، انڈونیشیا کے وزیر صنعت آگس گومیوانگ کارتاسمیتا نے امید ظاہر کی تھی کہ ایپل مقامی کمپنیوں سے اشتراک کے ساتھ اپنے مقامی اجزا میں اضافہ کرے گی۔

مزید پڑھیں:ایپل واچ سیریز 10 متعارف، خاص بات کیا ہے؟

کمپنیاں عام طور پر اس طرح کی مقامی شراکت داری کے ذریعے یا مقامی طور پر پرزوں کی تیاری آؤٹ سورس کر کے متعلقہ ملک کی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ کرتی ہیں۔

ایپل کے پاس انڈونیشیا میں مینوفیکچرنگ کی کوئی سہولت نہیں ہے، لیکن 2018 سے وہ ایپ ڈویلپر اکیڈمیاں قائم کر رہا ہے، جن میں نئی ​​اکیڈمی سمیت مجموعی طور پر ایک کروڑ ڈالر سے زائد لاگت آئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘