غالب کی بیٹھک: دنیور کے 2 بھائیوں کا مرزا غالب کو انوکھا خراج تحسین

اتوار 17 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیور  میں نگر سے تعلق رکھنے والے 2 بھائیوں نے غالب کی شاعری سے متاثر ہو کر ایک منفرد بیٹھک قائم کی ہے۔ اس بیٹھک کا مقصد نوجوانوں کو موبائل اور لیپ ٹاپ کی اسکرین سے دور کرکے علمی، تخلیقی اور فکری سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ہے۔

یہ بھی دیکھیں: املوک، گلگت بلتستان میں کیوں مقبول ہورہا ہے؟

یہ بیٹھک ایک ایسی جگہ ہے جہاں نوجوان غالب کی شاعری، اردو ادب، اور مختلف فکری مباحثوں پر گفتگو کرتے ہیں۔ اس کا ماحول پرانی ثقافتی روایتوں اور ادب کی خوشبو کی عکاسی کرتا ہے۔ یہاں نوجوانوں کو کتابیں پڑھنے، شاعری سننے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی مکمل آزادی ہے۔

ان بھائیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں نوجوان اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی کی وجہ سے محدود کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان ادب، فلسفہ، اور شاعری جیسے موضوعات میں دلچسپی لے کر اپنی شخصیت کو نکھاریں۔

یہ بھی دیکھیں:دیامر کے چلغوزے بہت زیادہ مہنگے کیوں ہوتے ہیں؟

یہ بیٹھک نہ صرف نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مشغول کرتی ہے, بلکہ ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی کاوش ہے جو علاقے میں علمی و ادبی ماحول کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرنے کی وجہ سے توجہ کا بھی مرکز بن رہی اور نوجوان طبقہ اس بیٹھک سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ریاست مخالف بیانیہ، این سی سی آئی اے نے شوکت نواز میر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا

مشرق وسطیٰ کشیدگی: وزیراعظم شہباز شریف اور امیر قطر کی ٹیلیفونک گفتگو، رابطے میں رہنے پر اتفاق

مشرق وسطیٰ کشیدگی: سندھ کابینہ کے اراکین 3 ماہ کی تنخواہوں سے دستبردار، 60 فیصد سرکاری گاڑیاں معطل

چین میں بیلٹ اینڈ روڈ اسکالرشپ ایوارڈ تقریب، پاکستانی سفیر کی شرکت، طلبہ کو اعزازات سے نوازا

میٹا نے یورپی ممالک میں اپنے اسمارٹ گلاسز کی لانچنگ مؤخر کردی

ویڈیو

ٹرمپ کی چیخیں، امریکا لیٹ گیا، اسلام آباد میں اہم بیٹھک، مذاکرات خفیہ کیوں؟

اورکزئی کی رابعہ بصری جو حصول علم کے لیے میلوں پیدل سفر کرتی ہیں

گلگت بلتستان کے شہریوں کا پاکستان کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کا عزم

کالم / تجزیہ

کرکٹ ورلڈ کپ 92‘ فتح کا 34واں سال

کیا عارضی جنگ بندی مستقل ہو سکتی ہے؟

جالب نامہ