گیس پریشر میں کمی کے ذمہ دار صارفین کیوں؟ سوئی گیس حکام نے بتا دیا

جمعرات 12 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان ہائیکورٹ میں گیس پریشر کی بحالی اور اضافی بلوں کے خلاف دائر کیس کی سماعت ہوئی،سماعت جسٹس کامران ملاخیل اور جسٹس شوکت رخشانی پر مشتمل بینچ نے کی۔

یہ بھی پڑھیں:’گیس مہنگی کرو‘، آئی ایم ایف نے پاکستان کو ڈیڈ لائن دیدی

اس موقع پر درخواست گزار نذیر آغا ایڈوکیٹ اور سائلین کے علاوہ سوئی گیس حکام اور ڈپٹی کمشنر عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواستگزار کا مؤقف تھا کہ  عدالتی احکامات کے باوجود تاحال کوئٹہ میں گیس پریشر بحال نہ ہو سکا۔ سوئی گیس حکام بدستور شہریوں کو اضافی بل بھیج رہے ہیں۔

جواب میں سوئی گیس حکام کا مؤقف تھا کہ شہری گھروں میں گیس کمپریسرز کا استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے پریشر کم ہے، کمپریسرز کا استعمال نہ ہو تو پریشر بحال ہوجائے ہوگا۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ شہر کو 230 کیوبک فٹ گیس کی ضروری ہے، اگر ضرورت کے مطابق 230 کیوبک فٹ کیس بحال کیا جائے تو شہری کمپریسرز کا استعمال ترک کر دیں گے۔

عدالت نے سوئی گیس حکام کو گیس پریشر بحال کرنے اور اضافی بلوں کے خاتمے کا پابند کرتے کی سماعت 24 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘