ضلع کرم کو درپیش بحران کے خاتمے کا امکان، متحارب فریقین بھاری ہتھیار جمع کروانے پر رضامند

ہفتہ 28 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ضلع کرم کو درپیش بحران کے خاتمے کا امکان، قبائلی مشران (رہنماؤں) کی جانب سے معاہدے پر دستخط، فریقین بھاری ہتھیار جمع کروانے پر آمادہ۔

ضلع کرم میں طویل عرصے سے جاری بحران کے خاتمے کا امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ضلع کرم میں متحارب فریقین کے مشران (رہنماؤں) نے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کرم میں امن کے امکانات روشن، متحارب فریقین تحریری امن معاہدے تک پہنچ گئے

فریقین کے مشران (رہنماؤں) کی جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ فریقین لڑائی میں استعمال ہو رہے بھاری ہتھیار حکومت کے پاس جمع کروا دیں گے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک فریق کے چند افراد آج دستخط کریں گے جبکہ کمشنر کوہاٹ آفس میں آج جرگہ حتمی فیصلے کا اعلان کرے گا۔

یاد رہے کہ کرم تنازع کے نتیجے میں ایک فریق نے پارا چنار پشاور مرکزی شاہراہ اور اپر کرم کے راستے ڈھائی ماہ سے بند کی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں اپرکرم کو خوارک و ادویات سمیت ہر قسم کی سپلائی معطل ہے۔

اس حوالے سے تحصیل چیئرمین آغا مزمل کا کہنا ہے کہ ادویات کی قلت کے باعث علاج نہ ملنے سے 123 بچوں کا انتقال حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کرم میں مستقل امن کے لیے کوشاں ہیں، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرم میں اشیائے ضروریہ اور دیگر اشیا  کی قلت کے سبب ہوٹلز، پبلک ٹرانسپورٹ اور کاروباری مراکز 3 ہفتوں سے بند پڑے ہیں۔

واضح رہے کہ پاراچنار کی کشیدہ صورتحال کیخلاف کرم پریس کلب پر 9 دن سے دھرنا جاری ہے جبکہ شہر کے دیگر علاقوں میں پانچ مقامات پر بھی دھرنے دیے جا رہے ہیں۔

دوسری طرف کراچی میں بھی پارا چنار کی صورتحال پر مختلف علاقوں میں دھرنے دیے جاری ہیں، جس کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

5جی اسپیکٹرم نیلامی مکمل: ٹیکنالوجی کا نیا میدان پاکستان کے لیے کون سے مواقع پیدا کر سکتا ہے؟

اسلام آباد میں یوم القدس: سیکیورٹی خدشات کے باعث کون سی سڑکیں بند، کون سے راستے کھلے؟

پیٹرول بچاؤ، الیکٹرک بائیکس چلاؤ: حکومت بلوچستان کی الیکٹرک بائیکس اسکیم سے بائیکس کیسے حاصل کی جا سکتی ہیں؟

لاڑکانہ، کشمور اور کندھ کوٹ کے سرکاری گوداموں سے 24 ہزار میٹرک ٹن گندم کیسے غائب ہوئی؟

آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد، کیا گوادر، پورٹ قاسم اور کراچی کی بندرگاہیں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہیں

ویڈیو

بادشاہی مسجد: فن اور تاریخ کا حسین امتزاج

روایتوں کے شہر میں نئی روایت: خواتین نے سنبھال لیا ٹریفک کا نظام

سورہ الکہف: آج کے فتنوں میں رہنمائی کا سر چشمہ

کالم / تجزیہ

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

ٹرمپ کے ممکنہ اہداف اور دم توڑتی امیدیں

ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت