قلعہ سیف اللہ سے مغوی ایک شخص بازیاب، لیویز کارروائی میں 3 اغوا کار ہلاک

جمعرات 9 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 بلوچستان کے ضلع ژوب میں مقامی افراد اور لیویز فورسز کی کارروائی میں 2 افراد کو اغوا کرنے کی کوشش کرنے والے 3 نامعلوم مسلح افراد ہلاک ہو گئے ہیں جب کہ مغوی شخص کو بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

بلوچستان کے ضلع ژوب کی ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ بدھ کو قلعہ سیف اللہ کے نواحی علاقے گوال اسماعیل زئی سے نامعلوم افراد نے ایک کلینک سے 2 افراد کو اغوا کیا،جن میں ژوب کا رہائشی جمعہ رحیم اور گوال اسماعیل زئی کا رہائشی مسعود خان شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں 2024 بدترین سال، دہشتگردی میں 17.84فیصد اضافہ

 اغوا کاروں سے مزاحمت کرنے پر اغوا کاروں نے مغوی مسعود خان کو قتل کردیا اور دوسرے مغوی کو لے کر فرار ہوگئے۔ واقعہ کی بروقت اطلاع ملنے پر لیویز فورس اور قریبی علاقوں کے لوگوں نے ملزمان کا پیچھا کیا جس پر وہ گاڑی چھوڑ کر قریبی پہاڑ کی طرف فرار ہوگئے۔

ژوب کی انتظامیہ بھی اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچ گئی، جمعرات کو قلعہ سیف اللہ کی سرحد کے قریب ضلع ژوب کی حدود میں موسیٰ زئی کے پہاڑی علاقے میں اغوا کاروں کو دیکھا گیا جس پر قریبی علاقے کے لوگوں اور دونوں اضلاع کی لیویز فورس نے ملزمان کا تعاقب کیا۔

لوگوں کے تعاقب کرنے پر اغوا کاروں نے مغوی کو چھوڑ دیا تھا۔ تاہم عوام اور لیویز فورس نے پھر بھی ملزمان کا پیچھا کیا اور انہیں ایک پہاڑی علاقے میں گھیرے میں لے لیا اس دوران فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

مزید پڑھیں:’بڑھتی دہشتگردی نے ہمیں بلوچستان سے ہجرت پر مجبور کردیا‘

فائرنگ کے بعد لیویز کو 3 اغوا کاروں کی لاشیں ملی ہیں جن میں سے 2 کے بارے میں شبہ ہے کہ انہوں نے خود کو دستی بم کے دھماکے سے اڑایا ہے۔ بازیاب ہونے والے جمعہ رحیم کی حالت بہتر ہے اور انہیں ژوب کے سول اسپتال میں طبی امداد دی گئی۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سینکڑوں لوگ پہاڑوں میں اغوا کاروں کا پیچھا کررہے ہیں۔ بازیاب ہونے والے جمعہ رحیم کے بھائی ڈاکٹر امین کے مطابق ژوب اور قلعہ سیف اللہ دونوں اضلاع کے عوام بلا تفریق صرف امن کے لیے باہر نکلے ہیں۔

مزید پڑھیے: وفاقی اور بلوچستان حکومت کا دہشتگردوں کا سر کچلنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ مغوی کی بازیابی اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا سہرا انتظامیہ نہیں بلکہ علاقے کے مقامی قبائل کو جاتا ہے جنہوں نے مسلسل 24 گھنٹے پہاڑوں میں ملزمان کا پیچھا کیا جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مون سون کے دوران خطرات سے بچاؤ کے لیے جامع روڈ میپ کے تحت اقدامات کیے جائیں، وزیراعظم شہباز شریف

سپریم کورٹ: خواتین کے حقِ وراثت سے متعلق تاریخی فیصلہ، 71 سال بعد 2 بہنوں کا آبائی جائیداد میں حصہ بحال

مصنوعی ذہانت ذہنی صحت سمیت کئی شعبوں میں سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہے، اقوام متحدہ سائنسی پینل رپورٹ

انٹرنیٹ کے بانیوں میں شمار ہونے والے ونٹ سرف گوگل کی ذمہ داریوں سے سبکدوش

ورلڈ بینک نے پنجاب کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 7 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے دی

ویڈیو

امریکا، ایران مذاکرات کا اگلا دور آج دوحہ میں، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنا اولین ہدف

فٹبال ورلڈ کپ: سعودی آرامکو کی انعامی مہم، جانیے تحائف کی تفصیل

سندھ طاس معاہدہ: پانی، امن اور مستقبل کی کہانی

کالم / تجزیہ

عالمی ریکارڈ کا حامل پاکستانی ڈاک ٹکٹ

تحریک انصاف اور محمود اچکزئی: ارادے کیا ہیں؟

جس کے ذکر سے پہلے پلکیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں