سندھ طاس معاہدہ: پانی، امن اور مستقبل کی کہانی

بدھ 1 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 جناح کنوینشن سینٹر اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدہ کے حوالے سے ایک انٹرنیشنل سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں پالیسی ساز، سفارت کار، بین الاقوامی اداروں کے ماہرین اور نیشنل و انٹرنیشنل میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا، پانی کو ہتھیار بنانا بین الاقوامی قانون کے منافی ہے، بین الاقوامی سیمینار

اس سیمینار میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزیوں پر سفارتی، قانونی اور علاقائی پہلووں کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔

اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی سندھ طاس سیمینار میں پاکستان کی سیاسی و سفارتی شخصیات نے یک آواز ہو کر کہا کہ پانی محض دریا نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کی زندگی، خوراک اور سلامتی ہے۔

سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے خبردار کیا کہ بھارت خود کو عالمی قوانین کا محافظ کہتا ہے مگر آج وہی معاہدہ شکن بن چکا ہے۔

مزید پڑھیے: سندھ طاس معاہدہ ناکام ہوا تو دنیا کا کوئی بین الاقوامی معاہدہ محفوظ نہیں رہے گا، مصدق ملک

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کی رضامندی کے بغیر تبدیل نہیں ہو سکتا جبکہ مستقل ثالثی عدالت بھی واضح کر چکی ہے کہ بھارت اسے یکطرفہ معطل نہیں کر سکتا۔

عالمی پالیسی ماہر لوری اے کا کہنا تھا کہ جب معلومات کا تبادلہ رک جائے تو اعتماد ٹوٹتا اور تنازعہ جنم لیتا ہے۔

نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ نظریاتی بحث نہیں بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔

مزید پڑھیں: پانی کا رخ موڑنے یا روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائےگا، پاکستان نے واضح کردیا

انہوں نے کہا کہ مئی 2025 میں قومی سلامتی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پانی روکنا جنگ کے مترادف ہو گا۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پانی کو ہتھیار بنانا عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔

مزید پڑھیں: سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاک بھارت پائیدار امن ممکن نہیں، بلاول بھٹو زرداری

انہوں نے کہا کہ سندھ، جہلم اور چناب پر پاکستان کا حق مسلمہ ہے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp