ورلڈ بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری، براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی توسیع، ڈیجیٹل سرکاری خدمات کی فراہمی اور کیش لیس لین دین کے فروغ کے لیے ’کنیکٹڈ پنجاب پروگرام‘ (سی پی پی) کے تحت 7 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ بینک نے پاکستان کو جنوبی ایشیا سے نکال کر مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ گروپ میں شامل کیوں کیا؟
ورلڈ بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ پروگرام پاکستان کے وسیع تر قومی ڈیجیٹل ایجنڈے کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر کام کرے گا۔ وفاقی حکومت پہلے ہی ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ (ڈیپ) کے ذریعے قومی سطح پر ڈیجیٹل عوامی انفراسٹرکچر کی تعمیر میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کنیکٹڈ پنجاب پروگرام انہی بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے تاکہ قومی پلیٹ فارمز، پالیسیوں اور رابطہ کاری کے منصوبوں کے فوائد پنجاب کے شہریوں اور کاروباری اداروں تک مؤثر انداز میں پہنچائے جا سکیں۔
پاکستان میں ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار نے کہا کہ ڈیجیٹل رابطہ اب عیش و آرام نہیں بلکہ مواقع تک رسائی کا بنیادی ڈھانچہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک جرات مندانہ وژن پیش کیا ہے اور کنیکٹڈ پنجاب پروگرام اسی وژن کو صوبے کے لاکھوں شہریوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ براڈ بینڈ تک رسائی میں توسیع اور پنجاب کے ڈیجیٹل ڈھانچے کو مضبوط بنانے سے بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کے لیے معیشت میں فعال شرکت اور بہتر سرکاری خدمات کے حصول کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ورلڈ بینک کے مطابق یہ پروگرام براڈ بینڈ انفراسٹرکچر میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں حائل ریگولیٹری اور مالی رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد دے گا خصوصاً ان شہری علاقوں میں جہاں اب تک مناسب سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔
مزید پڑھیے: ورلڈ بینک کا پاکستان کے 10 سالہ ترقیاتی پروگرام کے لیے حمایت کا اعادہ
پروگرام کے تحت رائٹ آف وے اجازت ناموں کے اجرا کے اوسط دورانیے کو 90 دن سے کم کر کے 21 دن تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس سے جون 2031 تک نجی شعبے کے ذریعے فکسڈ براڈ بینڈ کی رسائی 78 لاکھ سے بڑھ کر 99 لاکھ افراد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں تقریباً 21 لاکھ نئے افراد انٹرنیٹ سے منسلک ہو سکیں گے جبکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں کم از کم 5 کروڑ ڈالر کی نجی سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔
پروگرام کا ایک اہم ہدف مشترکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا بھی ہے تاکہ پنجاب کے صوبائی اور مقامی ادارے مصنوعی ذہانت سے لیس سرکاری خدمات کو وسیع پیمانے پر فراہم کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے حکومتی کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی جائے گی جس سے سرکاری اداروں کو اے آئی پر مبنی خدمات تیار کرنے اور انہیں شہریوں تک مؤثر انداز میں پہنچانے میں مدد ملے گی۔
جون 2031 تک اس پروگرام کے ذریعے تقریباً 2 کروڑ 89 لاکھ افراد کو بہتر ڈیجیٹل سرکاری خدمات فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں خواتین کی شمولیت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور ڈیجیٹل سرکاری خدمات استعمال کرنے والی خواتین کا تناسب 19 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد تک لانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
کنیکٹڈ پنجاب پروگرام کا ایک اور اہم پہلو صوبے میں نقد لین دین پر انحصار کم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل انوائس مینجمنٹ سسٹم اور باہمی طور پر مربوط ادائیگی کے نظام کی بنیاد رکھی جائے گی جو ادائیگیوں، انوائسز اور حکومتی رپورٹنگ کے نظام کو آپس میں مربوط کرے گی۔
مزید پڑھیں: ورلڈ بینک کے صدر کا ہری پور کی تحصیل خان پور میں جولیاں اسٹوپہ کا دورہ
پروگرام کے تحت جون 2031 تک کم از کم ساڑھے 3 لاکھ افراد کو کیش لیس ادائیگی کے نظام کا فعال صارف بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پاکستان میں ورلڈ بینک کے سینیئر ڈیجیٹل اسپیشلسٹ شہباز خان نے کہا کہ پاکستان کا نیا ڈیجیٹل اور اے آئی کمپیکٹ ملک کی ڈیجیٹل سمت کا تعین کر رہا ہے جبکہ ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ وفاقی سطح پر ڈیجیٹل عوامی انفراسٹرکچر کی بنیادیں فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کنیکٹڈ پنجاب پروگرام اسی وژن کا صوبائی اظہار ہے جو نجی شعبے کے تعاون سے فائبر کنیکٹیویٹی میں توسیع، مقامی ضروریات کے مطابق اے آئی سے لیس خدمات کی فراہمی اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ایسے نظام کی تشکیل میں معاون ثابت ہوگا جو معیشت کو دستاویزی بنانے اور جامع ترقی کو فروغ دینے میں مدد دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام منصوبے مل کر پاکستان کے لیے ایک مربوط اور باہمی طور پر مضبوط ہونے والا ڈیجیٹل تبدیلی کا ایجنڈا تشکیل دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ورلڈ بینک نے پاکستان کے لیے 4 کروڑ 79 لاکھ ڈالر کی گرانٹ منظور کرلی
ورلڈ بینک کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (آئی ڈی اے) کی جانب سے فراہم کی جانے والی 7 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت، مجموعی طور پر 27 کروڑ 80 لاکھ ڈالر مالیت کے حکومتی سرمایہ کاری پروگرام کا حصہ ہے جس میں پنجاب حکومت 20 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی مساوی فنڈنگ فراہم کرے گی۔














