کیا صرف طالبان حکومت ہی افغان بچیوں کی تعلیم میں بڑی رکاوٹ ہے؟

اتوار 2 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اگست 2021 میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد پورے ملک میں جماعت ششم کے بعد لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افغان طالبات کو اپنا تعلیمی سفر ختم کرنا پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم

اس پابندی کا نہ صرف لڑکیوں بلکہ اُن کے اساتذہ پر بھی گہرا اثر ہے، جو برسوں سے ان بچیوں کو تعلیم دینے میں اپنی محنت اور وقت صرف کرتے آرہے ہیں۔ ایک طرف طالبان حکومت کا حکم، اور دوسری جانب افغان معاشرے کی روایت ہے کہ جس میں لڑکیوں کی تعلیم کو غیر ضروری سمجھا جاتا ہے، دونوں مل کر افغان لڑکیوں کے تعلیمی ترقی میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔اس حوالے تفصیل اس ویڈیو رپورٹ میں ملاحظہ کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم