گلگت بلتستان: جماعت پنجم اور ہشتم کے نتائج میں طالبات نے میدان مار لیا

پیر 3 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گلگت بلتستان بورڈ آف ایلیمنٹری کے تحت سال 25-2024 کے جماعت پنجم اور جماعت ہشتم کے نتائج میں طالبات نے میدان مار لیا۔

جماعت ہشتم کے نتائج کے مطابق گرلز ہائی اسکول جٹیال گلگت کی طالبہ نصیب ولد افتخار نے 800 میں سے 729 نمبر لے کر پہلی پوزیشن حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیں گلگت بلتستان: تعلیم اور زراعت سمیت مختلف محکموں میں فیسوں اور ٹیکس کا نفاذ معطل

اسی طرح جماعت ہشتم میں دوسری پوزیشن گرلز ہائی اسکول مہدی آباد اسکردو کی طالبہ عقیلہ مریم ولد محمد تقی نے 725 نمبروں کے ساتھ حاصل کی، جبکہ تیسری پوزیشن بھی گرلز ہائی اسکول جٹیال گلگت کی طالبہ مسرت سیف اللہ کے حصے میں آئی، جنہوں نے 724 نمبر حاصل کیے۔

جماعت پنجم میں بھی طالبات نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ گرلز مڈل اسکول چھلت پائین نگر کی طالبہ اقرا زہرا نے 615 میں سے 535 نمبر لے کر پہلی پوزیشن حاصل کی۔

نتائج کے مطابق گرلز پرائمری اسکول ہارنگس تھلے گانچھے کی معصومہ بتول نے 531 نمبروں کے ساتھ دوسری پوزیشن اپنے نام کی، جبکہ بوائز ہائی اسکول کوواس (امیرآباد، ضلع گانچھے) کی بشریٰ مرتضیٰ نے 525 نمبروں کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔

مجموعی طور پر نتائج مایوس کن رہے، خصوصاً سرکاری اسکولوں میں کامیابی کی شرح کم رہی۔ جماعت پنجم میں کامیابی کا مجموعی تناسب 28.63 فیصد رہا، جو کہ تشویشناک حد تک کم ہے، جبکہ جماعت ہشتم میں مجموعی کامیابی کا تناسب 40.78 فیصد رہا۔

جماعت پنجم میں سب سے کم ترین کامیابی کا تناسب شگر میں 17.04 فیصد، دیامر میں 17.18 فیصد، استور میں 17.87 فیصد، نگر میں 19.14 فیصد اور گانچھے میں 24.87 فیصد رہا۔

پوزیشن ہولڈر طالبات کی فائل تصاویر

سب سے بہتر کارکردگی گلگت میں 51.69 فیصد کے ساتھ رہی جو کہ انتہائی کم تناسب ہے، غذر میں 34.22 فیصد، کھرمنگ میں 32.58 فیصد، ہنزہ میں 31.37 فیصد اور اسکردو میں 28.17 فیصد کامیابی دیکھی گئی۔

جماعت ہشتم میں بھی کئی اضلاع کی کارکردگی انتہائی خراب رہی۔ استور میں کامیابی کا تناسب سب سے کم 22.74 فیصد جبکہ اسکردو میں 31.01 فیصد رہا۔ سب سے زیادہ کامیابی کا تناسب گلگت میں 72.11 فیصد، غذر میں 58.11 فیصد، کھرمنگ میں 50.97 فیصد، ہنزہ میں 47.69 فیصد، نگر میں 36.52 فیصد، گانچھے اور شگر میں 35.02 فیصد اور دیامر میں 32.44 فیصد رہا۔

انتہائی مایوس کن نتائج کی بنیادی وجوہات میں اساتذہ کی کمی، اسکولوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان، غیر معیاری نصاب اور حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد میں سستی شامل ہیں۔ جس پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل بھی نہم اور دہم کے نتائج مایوس کن رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں حکومت کا گلگت بلتستان میں عالمی معیار کا کوہ پیمائی اسکول قائم کرنے کا اعلان

اگر تعلیمی اصلاحات پر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ بحران مزید سنگین ہوسکتا ہے۔ حکومت تعلیمی اداروں، اساتذہ اور والدین کو مل کر تعلیمی نظام میں بہتری لانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ گلگت بلتستان کے طلبہ کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ٹی آئی کا لیاقت باغ میں جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان

غیرملکی وفود کی آمدورفت، اسلام آباد پولیس کی عوام کے لیے اہم ہدایات جاری

امریکا اور ایران کے وفود جمعے کو پاکستان آرہے ہیں، اللہ کو منظور ہوا تو جنگ کے شعلے ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے، وزیراعظم

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟