پی ٹی آئی کا 8 فروری کا احتجاج ماضی کے احتجاجوں سے کیسے مختلف ہوگا؟

منگل 4 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نےعام انتخابات کو ایک سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں 8 فروری کو احتجاج کی کال دی ہے اور عوام سے ایک بار پھر سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی ہے۔

‎24 نومبر کے لانگ مارچ کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب پی ٹی آئی ایک بار پھر سڑکوں پر نکلے گی اور عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: 8 فروری کو کچھ نیا نہیں ہوگا، پرامن احتجاج ہوگا، شیخ وقاص اکرم

سابق وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختنوخوا کے تمام ٹکٹ ہولڈرز اور ارکان اسمبلی کو صوابی میں جلسہ کرنے کی ہدایات کی ہیں جبکہ شمالی پنجاب کی تنظیم بھی صوابی جلسے میں شامل ہو کر احتجاج میں شرکت کرے گی۔

اسی طرح، پی ٹی آئی لاہور میں مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاہم اجازت نہ ملنے کی صورت میں لاہور کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا جائے گا، جبکہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی ضلعی سطح پر احتجاج کیا جائے گا۔

‎8 فروری کا احتجاج ماضی سے کیسے مختلف ہوگا؟

پاکستان تحریک انصاف 24 نومبر کے بعد پہلی مرتبہ سڑکوں پر نکل رہی ہے اور اس بار احتجاج کی قیادت وزیراعلیٰ علی امین کے بجائے صوبائی صدر جنید اکبر خان کریں گے۔ جارح مزاج جنید اکبر کا 8 فروری کو پہلا امتحان ہوگا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق، ماضی کے احتجاجوں کے برعکس اس بار پارٹی قیادت کی صوبے کے شمالی اضلاع اور وسطی اضلاع میں دلچسپی زیادہ ہے جس کی وجہ وزیراعلیٰ علی امین کے ساتھ اختلافات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی جڑیں عوام میں ہیں، عمران خان کو مائنس نہیں کیا جا سکتا، رانا ثنااللہ کا اعتراف

ماضی میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو جنوبی اضلاع اور ہزارہ ریجن کی حمایت حاصل تھی جبکہ پشاور، نوشہرہ، مردان، چارسدہ اور مالاکنڈ ڈویژن کی قیادت کے علی امین کے ساتھ اختلافات کے باعث ان اضلاع سے عوام کی شرکت قدرے کم رہتی تھی۔

ذرائع کے مطابق، صوبائی صدر جنید اکبر کو مالاکنڈ ڈویژن اور دیگر شمالی اضلاع کے علاوہ پشاور، چارسدہ، مردان اور نوشہرہ کی مقامی قیادت کی حمایت حاصل ہے جس کی وجہ سے توقع کی جارہی ہے کہ 8 فروری کو صوابی کا جسلہ ماضی قریب کے جلسوں سے بڑا ہوگا۔

دوسری جانب، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ورکرز میں بڑھتی ہوئی غیر مقبولیت کے بعد نئی قیادت کی سربراہی میں احتجاج کارکنان کے لیے نئی امید کے طور پر دیکھا جارہا ہے، خاص طور پر پی ٹی آئی کی طلبہ تنظیم ماضی کے برعکس اس بار زیادہ متحرک نظر آرہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں گالیوں کی انوکھی دنیا، کبھی یہی الفاظ جیل پہنچا دیا کرتے تھے

ایل پی جی سیکٹر پر چند افراد کی اجارہ داری ختم کردی، مسابقت سے قیمتیں کم ہوں گی، علی پرویز ملک

مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائیوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تجاوزات کے خلاف مہم جاری رہے گی، طلال چوہدری

انٹرنیٹ پر نئے صارفین کو لوٹنے کے لیے فراڈیے تیار، خود کو محفوظ کیسے رکھیں؟

پیٹرول کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بڑی کمی، 6 نومبر کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا

ویڈیو

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے گئے بیوٹمز یونیورسٹی کے 51اساتذہ واپس کیوں نہیں آئے؟

عمران خان کن رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے؟ عمار مسعود اہم خبریں سامنے لے آئے

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟