7 سیارے ایک صف میں، یہ  دلفریب منظر پاکستان سمیت دنیا میں کب دکھائی دے گا؟

پیر 24 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہمارے نظام شمسی کے 7 سیارے 28 فروری کو ایک ہی صف میں کھڑے دکھائی دیں گے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان سیاروں میں زہرہ، مریخ، مشتری، زحل، یورینس، نیپچون اور عطارد شامل ہوں گے اور اس منظر کو پلینٹ پریڈ کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نودریافت سیارے میں خاص کیا ہے؟

سیاروں عطارد، زہرہ، مشتری اور زحل کو تو انسان بغیر کسی دوربین کے دیکھ سکیں گے جبکہ یورینس، مریخ اور نیپچون کو دیکھنے کے لیے ایک چھوٹی دوربین کی ضرورت ہوگی۔

سیاروں کی یہ صف بندی یا پریڈ جنوری میں شروع ہوئی تھی جب 21 سے 29 جنوری تک زہرہ، مریخ، مشتری، یورینس اور نیپچون آسمان پر ایک ہی قطار میں آگئے تھے۔

مزید پڑھیے: سائنسدانوں کو زمین سے دوگنا بڑے سائز کے سیارے پر زندگی کے آثار مل گئے

اب 28 فروری کو اس میں مرکری کے اضافے کے ساتھ یہ پریڈ اپنے عروج پر پہنچ جائے گی۔

یہ خوبصورت نظارہ پاکستان، بھارت، امریکا، میکسیکو، کینیڈا سمیت کئی ممالک میں دیکھا جا سکے گا۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ نایاب منظر 28 فروری 2025 کے 15 سال بعد 2040 میں دوبارہ دیکھا جاسکے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کنگنا رناوت نے بھارت کی جین زی جنریشن کو ’گٹر جنریشن‘ کیوں کہا؟

’پاکستان کے لیے اپنی بہترین کارکردگی دکھاؤں گا‘ ارشد ندیم کی فائنل کے لیے دعاؤں کی اپیل

خواجہ آصف کا علیم خان کو استعفیٰ دینے اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا مشورہ

آج اور کل ملک بھر میں شدید بارشوں کا امکان، شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

آئی سی سی کا ورلڈ کپ 2027 کے لیے نیا 3 مرحلوں پر مشتمل فارمیٹ کیا ہے؟

ویڈیو

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

فون گرو فارم خانیوال: جدید زراعت اور لائیو اسٹاک کی ترقی کا ایک مثالی ماڈل

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘