جدید ملٹری میوزیم اور قومی یادداشت میں ان کا کردار

اتوار 13 ستمبر 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک زمانہ تھا جب ہمارے بچے چڑیا گھروں اور جوان عجائب گھروں کا رخ کرتے۔ پھر آیا پہلے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا دور اور اس کے بعد سوشل میڈیا کا عہد۔ جس کے 2 بڑے سائڈ ایفیکٹ یہ ہیں کہ کتاب اور عجائب گھر مکمل طور پر نظر انداز ہوگئے۔ لیکن اسی دور میں کراچی میں 2 ملٹری عجائب گھر قائم ہوئے۔ ایک پاکستان نیوی کا اور دوسرا پاک فضائیہ کا۔ یہ دونوں عجائب گھر یوں ایک اچھی کوشش ہیں کہ لوگوں کی دلچسپی کھینچنے میں اچھے خاصے کامیاب ہیں۔ لیکن ہمیں لگتا ہے انہیں مزید بہتر کرنے کی خاصی گنجائش ہے۔ اسے واضح کرنے کے لیے ہم روس کے 2 ملٹری عجائب گھروں کی کچھ تفصیل پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس تفصیل کا اہم ترین پہلو یہ ہوگا کہ روس نے ان 2 عجائب گھروں کے ذریعے اپنی ملٹری تاریخ میں قوم کو مدغم کرکے کس طرح اجتماعی یاداشت تشکیل دینے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ صراحت شروع میں ہی کردیں کہ ان 2 وسیع و عریض عجائب گھروں کی ساری تفصیل ایک کالم میں سمیٹنا ممکن ہی نہیں۔ لہذا ہم کچھ منتخب گوشوں کا ہی ذکر کریں گے۔

روس کے ان 2 عجائب گھروں میں سے پہلا ’وکٹری میوزیم‘ ہے جو ماسکو شہر کے اندر وکٹری پارک میں واقع ہے۔ جبکہ دوسرا میوزیم ’روڈ آف میموری‘ کہلاتا ہے  جو ماسکو سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ان میں سے کوئی بھی عجائب گھر صرف آرمی، نیوی یا رشین ایئرو اسپیس فورس کا نہیں۔ یہ عجائب گھر اس کی ہر ملٹری برانچ ہی نہیں بلکہ ان اداروں کا بھی احاطہ کرتے ہیں جو جنگ کا کسی نہ کسی شکل میں حصہ رہے تھے۔ مثلاً ریلوے، میڈیکل اسٹاف، کارخانے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ رشین قوم کا رول۔ مگر جو چیز ان دونوں عجائب گھروں کو ممتاز بناتی  ہے، وہ یہ ہے کہ یہاں محض دوسری جنگ عظیم کے نوادرات نہیں دکھائے جاتے، اس جنگ کی محض تاریخ سے ہی روشناس نہیں کرایا جاتا بلکہ میوزیم میں آنے والوں کو جنگ کے حیران کن تجربے سے بھی آشنا کروایا جاتا ہے۔

وکٹری میوزیم کا تصور دوسری جنگی عظیم کے سوویت فاتح مارشل جورجی ژوکوف نے 1955 میں پیش کیا تھا۔ لیکن اس کی تعمیر 1985 میں شروع ہوئی، اور 9 مئی 1995 کو اس کا افتتاح ہوا۔ یہ تاخیر کسی غفلت یا فنڈز کی کمی کی وجہ سے نہ تھی۔ بلکہ اس نسل کے جوان ہونے کا انتظار کیا گیا جس نے دوسری جنگ عظیم دیکھی نہ تھی، اور جس کے ذہن میں اس جنگ سے متعلق سوالات کھڑے ہونے تھے۔ وسیع و عریض وکٹری پارک میں دوسری جنگ عظیم میں استعمال ہونے والے ٹینک، توپیں یا دیگر ہتھیار نہیں رکھے گئے بلکہ جنگی و ملٹری علامات اور یادگاروں کے ذریعے ماحول تشکیل دیا گیا ہے۔ جو میوزیم کی مرکزی عمارت میں داخلے سے قبل ہی زائر کے موڈ کو ایک خاص سمت دیدیتا ہے۔

اس ماحول سے گزر کر جب زائر مرکزی عمارت میں داخل ہوتا ہے تو خود کو ہال آف میموری میں پاتا ہے۔ جہاں6  بڑے دیوراما بنائے گئے ہیں۔ دیوراما آرٹ کی وہ قسم ہے  جو محض ایک تصویر نہیں ہوتی۔ اس میں کسی تاریخی منظر کو اس طرح بنایا جاتا ہے کہ آپ کو میدان جنگ، عمارتیں، سپاہی، گاڑیاں اور فاصلوں کا ایک مکمل منظر دکھائی دیتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ زائر کسی واقعے کو صرف پڑھنے کے بجائے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک منظر کی صورت  دیکھے۔ ایک ایسا منظر جو دیوار پر بھی ہے اور دیوار سے باہر زمین پر بھی پھیلا ہوا ہے۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ اگر آپ کسی معرکے کی تاریخ پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ فوج کہاں تھی، حملہ کہاں ہوا، دفاع کیسے کیا گیا۔ لیکن دیوراما میں یہی چیزیں ایک مکانی تجربے میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔

6 میں پہلا دیوراما 1941 میں لڑی گئی اس ماسکو جنگ کا منظرنامہ ہے  جس میں جرمن پیشقدمی کو ماسکو کے دروازوں پر روکا گیا اور پھر سوویت جوابی حملہ شروع ہوا۔ دوسرا دیوراما اسٹالن گراڈ کی جنگ کو تاریخ کی کتاب سے باہر لاکر منظر میں بدلتا ہے۔ 1942سے 43 تک لڑا گیا یہ معرکہ سوویت فتح اور جرمن فوج کی ایک بڑی شکست کے طور پر دوسری جنگ عظیم کا دوسرا اہم ترین موڑ مانا جاتا ہے۔ تیسرا دیوراما لینن گراڈ کا محاصرہ دکھاتا ہے۔ اس سوویت شہر کا محاصرہ 1941 سے 1944 تک جاری رہا تھا، اور اس میں نازی جرمنی کی ہی نہیں بلکہ اٹلی، اسپین اور فن لینڈ کی فوج نے بھی حصہ لیا تھا۔  چوتھا دیوراما کرسک کی مشہور زمانہ جنگ کا ہے۔ یہ معرکہ آج بھی ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ کے طور پر تاریخ کا حصہ ہے۔ پانچواں دیوراما دریائے دنیپر کو عبور کرنے کی یاد ہے۔ سننے میں بہت آسان سا لگتا ہے کہ محض ایک دریا ہی عبور کرنا تھا۔ مگر یوں سمجھیے کہ اس دریا کو عبور کرنے کے لیے سوویت فوج کو اپنی لاشوں کے پل پر سے گزرنا پڑا تھا۔ چھٹا اور آخری دیوراما برلن کی تاریخ ساز فتح کو یادگاری منظر میں بدلتا ہے۔ سمجھنے والی ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ 6 دیوراما اس جنگ کے 6 بڑے معرکوں کو ہی منظر میں نہیں بدلتے۔ بلکہ ان کے ذریعے جنگ کی مختصر زمانی ترتیب بھی پیش کی گئی ہے۔ یعنی ماسکو، اسٹالن گراڈ، لینن گراڈ، کرسک، دینپر، اور برلن اس جنگ کے زمانی سائن بورڈ بھی ہیں۔

6 بڑے دیوراما کے بعد آتے ہیں جنگی نوادرات، مگر بڑے ہتھیار نہیں بلکہ کچھ اور۔  کچھ اور میں شامل ہیں فوجی کمانڈروں اور سپاہیوں کی ذاتی اشیا، محاذ سے لکھے گئے خطوط، تمغے،ذاتی  ہتھیار، وردیاں اور دوسری تاریخی چیزیں۔ ان اشیا کا دیوراما سے نفسیاتی جوڑ سمجھنا ضروری ہے کیونکہ یہ سوچی سمجھی ترتیب ہے۔ دیوراما آپ کو واقعہ دکھاتا ہے، لیکن اصل خط یا سپاہی کی ذاتی چیز آپ کو اس واقعے سے انسانی تعلق قائم کرنے کا موقع دیتی ہے۔ مثلاً ایک جنگی نقشہ آپ کو بتاتا ہے کہ فوج کہاں کہاں سے آگے بڑھی۔ لیکن ایک سپاہی کا خط آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کرسکتا ہے کہ اس پیشقدمی کے دوران ایک عام سپاہی کیا محسوس کر رہا تھا ؟ اور کیا سوچ رہا تھا؟

اس میوزیم کا ایک اہم ترین گوشہ ’فیٹ آف دی نیشن‘ ہے جس میں جنگ کے دوران عام شہریوں، سائنسدانوں، طبی کارکنوں، ثقافتی کارکنوں اور دوسرے لوگوں کی خدمات کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ اور بتایا گیا ہے کس کس شعبے نے جنگ میں کیا کردار ادا کیا۔ یہ گوشہ درحقیقت یہ بتاتا ہے کہ جنگ صرف فوج نہیں پوری قوم لڑتی ہے۔ یعنی فتح کی داستان میں محاذ کے سپاہی کے ساتھ گھر، کارخانے، اسپتال، تحقیق گاہ اور شہری زندگی بھی شامل ہے۔

وکٹری میوزیم میں ایک نہایت اہم چیز برلن میں لڑی گئی لڑائی کا 3 ڈی پینوراما ہے۔ اس کا کمال یہ ہے کہ زائرین کسی ایک دیواری پردے پر کوئی ویڈیو نہیں دیکھ رہے ہوتے بلکہ وہ بصری و صوتی طور پر خود کو عین اس جنگ کے بیچ میں پاتے ہیں۔ ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کی گھن گرج،  رشین فوجیوں کی آوازیں اور نظروں کے سامنے گویا حقیقی جنگ۔یہ تو ہوئیں ماسکو شہر میں واقع وکٹری میوزیم کی چند منتخب چیزیں۔ اب آیے ماسکو سے 50 کلومیٹر باہر قائم دوسرے عجائب گھر ’روڈ آف میموری‘ کی جانب۔

 روڈ آف میموری میوزیم کا پورا سرکاری نام ’روڈ آف میموری۔ فتح کی جانب 1418 قدم‘ ہے۔ اور اس کا افتتاح 22 جون 2020 کو ہوا ہے۔ سوویت یونین کی جنگ 22 جون 1941ء سے 9 مئی 1945ء تک لڑی گئی تھی۔ روسی یادداشت میں اس عرصے کو 1418 دن اور راتیں کہا جاتا ہے۔ روڈ آف میموری نے اسی مدت کو میوزیم کی جسمانی ساخت بنا دیا ہے۔ یوں یہ میوزیم اس طرح قائم کیا گیا ہے کہ آپ جنگ کے آغاز سے چلتے ہیں، پھر دن گزرتے ہیں، معرکے آتے ہیں، محاصرے آتے ہیں، پیشقدمی ہوتی ہے، اور آخر میں فتح آتی ہے۔ یعنی تاریخ کو واقعات کی فہرست کے بجائے ایک زمانی سفر بنا دیا گیا ہے۔ اس سفر کے لیے وہاں 35 موضوعاتی ہال ہیں، جن میں 26 ماحول میں ڈبو دینے والے ہال بھی شامل ہیں۔ ان ہالوں میں زائر صرف ایک تصویر نہیں دیکھتا، بلکہ ہال کی ساخت، روشنی، آواز، ویڈیو اور دوسرے بصری عناصر مل کر اسے کسی تاریخی واقعے کا ماحول محسوس کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس میوزیم کا ایک نہایت اہم حصہ ’وقت کا دریا‘ ہے۔ اس میں محاذ کے سپاہیوں، رضاکار لڑاکوں، محصور لینن گراڈ کے باشندوں، عقبی محاذ کے کارکنوں اور دوسرے لوگوں کی معلومات اور تصاویر شامل ہیں۔ اس کے ذریعے رشین درحقیقت یہ کہتے ہیں کہ جنگ کی تاریخ صرف بڑے جرنیلوں اور معرکوں کی تاریخ نہیں، بلکہ لاکھوں انسانوں کی تاریخ بھی ہے۔ اب ذرا جگر تھام کر سنیے کہ اس گیلری میں اس جنگ کا حصہ رہے 3 کروڑ سے زائد سوویت شہریوں کا ڈیجٹل ریکارڈ موجود ہے۔  یہ اس لیے بہت اہم ہے کہ اس جنگ میں قربان ہونے والے سوویت شہریوں کی تعداد 2 کروڑ 70 لاکھ ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ روس میں ایسا ایک بھی خاندان نہیں جس کا کوئی نہ کوئی فرد اس جنگ میں قربان نہ ہوا ہو۔ چنانچہ اس میوزیم نے یہ آن لائن بندوبست بھی کر رکھا ہے کہ رشین اور سوویت یونین کا حصہ رہنے والی ریاستوں کے شہری گھر بیٹھے میوزیم کی ویب سائٹ پر دوسری جنگ عظیم کی نسبت سے اپنے خاندان کا بنیادی تعارف اور اس جنگ میں قربانی کا حوالہ دیکھ سکتے ہیں۔ اور یہ محض نام اور جائے قربانی کے ذکر تک محدود نہیں، بلکہ قربان یا زخمی ہونے والوں کی سرکاری دستاویزات اور سندات وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں۔

یوں گویا وکٹری میوزیم میں آپ تاریخ دیکھنے جاتے ہیں۔ اور  روڈ آف میموری میں آپ تاریخ کے اندر اپنے خاندان کی جگہ بھی تلاش کرسکتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو اس میوزیم کو قومی یادداشت سے ذاتی یادداشت تک لے جاتی ہے۔ اور سب سے اہم چیز یہ کہ یہ میوزیم کتھیڈرل آف رشین آرمڈ فورسز کمپلیکس کا حصہ ہے۔  جو گویا دوسری جنگ عظیم کی قربانیوں کے روحانی پہلو کی جانب ہی اشارہ نہیں بلکہ موجودہ روس کے مذہبی تشخص کا  بھی باقاعدہ حوالہ ہے۔

یہاں ایک بہت ہی اہم سوال پیدا ہو جاتا ہے۔ ایک ہی جنگ کے 2-2 بلکہ 3 میوزیم کیوں؟ تیسرے میوزیم میں دوسری جنگ عظیم میں شامل سوویت اور دشمن سے چھینے گئے ہتھیار رکھے گئے ہیں، جس میں بندوق سے لے کر طیاروں تک ہر چیز شامل ہے۔ لیکن بنیادی سوال وکٹری میوزیم اور روڈ آف میموری کے تقابل کا ہے۔ دونوں میں مربوط فرق یہ ہے کہ وکٹری میوزیم میں جنگ کی داستان کو بڑے معرکوں، دیوراما، پینوراما، اصل نوادرات اور مختلف موضوعاتی ہالوں کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ جبکہ روڈ آف میموری میں جنگ کے 1418 دنوں  کو ایک طویل یادگاری سفر کی شکل دی گئی ہے۔ اس میں موضوعاتی ہال، ماحول میں ڈبو دینے والی نمائشیں، تاریخی مناظر اور انسانی یادداشت کا مواد شامل ہے۔

روس کے یہ دونوں میوزیم بنیادی طور پر یہ سبق دیتے ہیں کہ جب ایک بڑی قوم اپنی تاریخ کو میوزیم میں محفوظ کرتی ہے، تو وہ صرف ماضی کو محفوظ نہیں کرتی، وہ یہ بھی طے کرتی ہے کہ آنے والی نسلیں اس ماضی کو کس ترتیب سے دیکھیں۔ یہاں ایک اہم چیز سمجھنا بہت ضروری ہے۔ تاریخ اور اجتماعی حافظہ ایک ہی چیز نہیں۔ تاریخ کا بنیادی سوال یہ ہوتا ہے کہ ماضی میں کیا ہوا تھا ؟ جبکہ اجتماعی حافظہ پوچھتا ہے، ہم اس ماضی کو آج کس طرح یاد کرتے ہیں، اور ہماری اجتماعی شناخت میں اس کی کیا جگہ ہے؟ اور یہی وہ مقام ہے جہاں میوزیم بہت اہم ہوجاتا ہے۔ تاریخ کہتی ہے، روس کے لیے دوسری جنگ عظیم 1418 دن چلی تھی۔ میوزیم کہتا ہے، آیے ہمارے سے ساتھ 1418 قدم چل کر اس جنگ کو دیکھیے۔ یوں یہ جسمانی تجربہ بن جاتا ہے جو اجتماعی یاداشت  کو انمٹ نقش میں بدل دیتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نئے صوبوں کی تشکیل میں 6 سے 8 ماہ لگ سکتے ہیں، رانا ثنا اللہ

’ باس سکیم‘ نامی نیا سائبر حملہ، واردات کا طریقہ کار کیا ہے، کیسے بچا جاسکتا ہے؟

اسلام آباد کی سیکیورٹی کے لیے صوبوں سے 23 ہزار سے زائد پولیس نفری طلب کرلی گئی

پاکستان اور لبنان میں باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق، لبنانی وزیر داخلہ احمد الحجار 2 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے

بلوچستان میں خواتین کے خلاف تیزاب گردی و تشدد کا سلسلہ نہ تھم سکا، 5 سال میں قتل کے 390 واقعات رپورٹ

ویڈیو

27 ستمبر مارچ سے قبل پی ٹی آئی اندرونی اختلافات کا شکار، ہزاروں افراد نکالنا بھی مشکل، اندرونی کہانی سامنے آگئی

رضا اللہ کے بھائی نے والد کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت دینے پر کیسے آمادہ کیا؟

ویڈیو میں ایکشن دیکھ کر اندازہ ہو گیا تھا، لڑکے میں ٹیلنٹ ہے، آج رضا اللہ نے ثابت کر دیا، کوچ رفعت اللہ مہمند

کالم / تجزیہ

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘

راجا جی ریل کا ایک پرانا سفر

اے قائد ہم شرمندہ ہیں