سعودی عرب کی جنگ بندی کے باوجود غزہ پر بمباری کی مذمت، فلسطینیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور

منگل 18 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب نے جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر بمباری کی شدید مذمت کی ہے۔

مملکت کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل نے بین الاقوامی انسانی قانون کی زرا بھی پرواہ کیے بغیر نہتے شہریوں پر بمباری کی جو قابل مذمت ہے۔

یہ بھی پڑھیں اسرائیلی جارحیت معاہدے کی خلاف ورزی ہے، خطے کا استحکام خطرےمیں پڑگیا، پاکستان

مملکت نے اسرائیلی قتل و غارت اور تشدد کو فوری طور پر روکنے کی اہمیت اور فلسطینی شہریوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔

سعودی وزارت خارجہ نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ غزہ کے معاملے پر توجہ دے اور مداخلت کرے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے باوجود ایک بار پھر غزہ پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں اب تک 400 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر دوبارہ حملے شروع کرنے پر فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کو بڑی دھمکی دے دی۔

حماس کے سینیئر رہنما سامی ابو زہری نے کہا ہے کہ اسرائیل کچھ بھی کرلے اس کا غزہ میں کوئی ہدف پورا نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں ’یہ یرغمالیوں کو سزائے موت سنانے کے مترادف ہے‘،حماس کی اسرائیل کو بڑی دھمکی

انہوں نے کہاکہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کا دوبارہ جنگ کا آغاز یرغمالیوں کو سزائے موت سنانے کے مترادف ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبی تنازع: بنگلہ دیش کا مسئلے کے حل کے لیے تمام ممکنہ آپشنز استعمال کرنے کا اعلان

اسلام قبول کرنے والی لڑکی کو دارالامان بھیجنے کا حکم، آئینی عدالت میں اہم ریمارکس

بہاولپور پلازہ تنازع کیس: وکیل کی فیس واپسی اور ’ڈن بیسز ریلیف‘ پر اہم عدالتی فیصلہ

پشاور: امریکی قونصل خانہ کی بندش، اب سفارتی امور کہاں انجام دیے جائیں گے؟

27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ہم پلہ قرار

ویڈیو

معرکہ حق: بھارت اب پاکستان کی طرف دشمنی کی نظر سے دیکھنے کی ہمت نہیں کرے گا، اسلام آباد کے عوام کی رائے

خیبرپختونخوا حکومت کا بجٹ، عوام کیا کہتے ہیں، کیا ان کے مسائل حل ہوں گے؟

امریکی صدر کی اسٹریٹجی ناکام، ایران سے مذاکرات کی جلدی

کالم / تجزیہ

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

ٹریل 5: فطرت، تنہائی اور خودکلامی