خضدار واقعہ قومی سانحہ ہے، دہشتگردوں کو بھارتی سرپرستی حاصل ہے، شیری رحمان

جمعرات 22 مئی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خضدار واقعے نے پوری قوم کو غم و اندوہ میں مبتلا کردیا۔ انہوں نے واقعے کو ناقابل برداشت اور انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں نے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا، جو کسی بھی مذہب یا تہذیب میں جائز نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کئی برس سے دہشتگردی کی جنگ لڑ رہا ہے اور ہمارے دشمن اس جنگ میں بچوں کو نشانہ بنا کر ہماری حوصلہ شکنی چاہتے ہیں۔ ہماری اصل جنگ ان دہشتگردوں سے ہے جو افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور بھارت کی مالی و عسکری مدد سے بی ایل اے جیسے گروہوں کو تقویت دیتے ہیں۔

شیری رحمان نے بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ وہ بلوچستان میں تخریب کاری، دہشتگرد نیٹ ورکس کی مالی معاونت، اسلحے کی فراہمی اور حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث رہا ہے، جو بھارتی ریاستی دہشتگردی کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔

مزید پڑھیں: خضدار بس حملہ، شہید طالبات کی تعداد 4 ہوگئی

سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں، حتیٰ کہ اپنی قائد محترمہ بینظیر بھٹو کو کھو دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہم کبھی اجازت نہیں دیں گے کہ ہمارے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا جائے۔ حالیہ حملے سمیت متعدد واقعات میں بھارت کے نشانِ قدم واضح ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں بھی مودی کے بھارت جیسا بن جانا چاہیے؟ ہم پرامن قوم ہیں، لیکن ہمارے صبر کا امتحان لیا جا رہا ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستانیوں کو نشانہ بنانا کوئی نئی بات نہیں۔ سمجھوتا ایکسپریس سے لے کر جعفر ایکسپریس تک، پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم ظاہر ہو چکے ہیں۔ حالیہ جنگی کشیدگی کے دوران بھارت نے سویلین آبادی کو نشانہ بنایا، مگر پاکستان نے جوابی کارروائی میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنا کر اپنے پرامن مؤقف کو واضح کیا۔ پاکستان امن پسند ملک ہے، مگر امن کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکا اسے کیسے نافذ کر سکتا ہے؟

ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی

اسلام آباد میں کیا دیکھوں اور فارغ وقت کہاں گزاروں؟ امریکی صحافی نے پاکستانیوں سے تجاویز مانگ لیں

مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع، آئی ایم ایف

حد سے زیادہ دعوے، کمزور نتائج: نیتن یاہو کو جنگ بندی پر شدید ردِعمل کا سامنا

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا کرسکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا