امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باوجود مذاکرات کی بحالی کا امکان پیدا ہو گیا ہے، جبکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں اور سفارتی منظرنامے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
امریکی ناکہ بندی پر ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا، تاہم مذاکرات کے تسلسل کے امکانات نے عالمی تیل منڈیوں کو کسی حد تک پرسکون رکھا اور تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئیں۔
ایران نے 28 فروری سے جاری جنگ کے بعد سے اہم عالمی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر رکھا ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس تنازع میں اب تک تقریباً 5 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
2 ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات
اسلام آباد میں گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے پر منتج نہ ہو سکے، جس کے باعث 2 ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، حالانکہ اس میں ابھی ایک ہفتہ باقی ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام پر اختلافات مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ رہے۔ امریکا نے ایران کی تمام جوہری سرگرمیاں 20 سال کے لیے معطل کرنے کی تجویز دی، جبکہ تہران نے 3 سے 5 سال تک کی معطلی کی پیشکش کی۔ امریکا نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ افزودہ جوہری مواد ایران سے باہر منتقل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے امریکا کے ایران کیخلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں گر گئیں
ذرائع کے مطابق پسِ پردہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریقین کسی ممکنہ معاہدے کے قریب آ رہے ہیں، جسے آئندہ مذاکراتی دور میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی فوری جوہری معاہدے تک پہنچنا مشکل ہوگا، کیونکہ 2015 کے پیچیدہ جوہری معاہدے سے ڈونلڈ ٹرمپ 2018 میں علیحدگی اختیار کر چکے تھے، جبکہ کسی بھی نئے معاہدے کے لیے عالمی ادارہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی نگرانی ضروری ہوگی۔ ایران بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کر رہا ہے، جس پر امریکا تنہا فیصلہ نہیں کر سکتا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ناکہ بندی کے پہلے 24 گھنٹوں میں کوئی جہاز ایرانی بندرگاہوں تک نہیں پہنچ سکا، جبکہ 6 تجارتی جہاز واپس لوٹ گئے۔ تاہم بحری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر متاثر نہیں ہوئی۔
اس جنگ نے عالمی توانائی کی فراہمی اور تیل پر انحصار کرنے والی اشیاء کی ترسیل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
تنازعہ سال بھر جاری رہا تو کیا ہوگا؟
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ( آئی ایم ایف) نے عالمی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی کم کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تنازع شدت اختیار کرتا ہے اور تیل کی قیمتیں 2027 تک 100 ڈالر سے اوپر رہیں تو عالمی معیشت کساد بازاری کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔ اسی طرح انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے بھی تیل کی عالمی طلب و رسد کے اندازے کم کر دیے ہیں۔
امریکا کے نیٹو اتحادی، جن میں برطانیہ اور فرانس شامل ہیں، نے واضح کیا ہے کہ وہ اس تنازع میں براہ راست شامل نہیں ہوں گے، تاہم کسی معاہدے کی صورت میں آبنائے ہرمز کے تحفظ میں تعاون کر سکتے ہیں۔
چین، جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، نے امریکی ناکہ بندی کو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے جنگ بندی کے باوجود تیل و گیس کی قیمتیں معمول پر آنے میں کتنا وقت لگے گا؟
ادھر مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے کیونکہ اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل کے مطابق یہ کارروائیاں جنگ بندی میں شامل نہیں، جبکہ ایران اس کی مخالفت کرتا ہے۔
1993 کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان بڑی پیش رفت
واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیل اور لبنان کے نمائندوں کے درمیان ایک اہم اجلاس کی میزبانی کی، جسے 1993 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
لبنان نے اسرائیلی حملوں کے خاتمے کے لیے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے، جن میں 2 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً 12 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل لبنان سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
دوسری جانب امریکا میں بڑھتی توانائی قیمتوں کے باعث سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی بمباری مہم عارضی طور پر روک دی تھی۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کی حمایت میں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ جنگ بندی کے باوجود دونوں جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔













