اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو حالیہ جنگ بندی معاہدے کے بعد شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق اسرائیلی عوام کی بڑی تعداد اس جنگ بندی سے مطمئن نہیں اور اسے نامکمل کامیابی قرار دے رہی ہے۔ عوام کی توقع تھی کہ ایران کے خلاف جنگ فیصلہ کن ہوگی، مگر نتائج اس کے برعکس نکلے اور ایرانی حکومت برقرار رہی۔
یہ بھی پڑھیں:نیتن یاہو ’ہٹلر‘ ہیں، اسرائیل میں گھس کر ماریں گے، ترک صدر اردوان
اعداد و شمار کے مطابق 61 فیصد اسرائیلی شہری جنگ بندی کے مخالف ہیں جبکہ 73 فیصد کو خدشہ ہے کہ ایک سال کے اندر دوبارہ جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اکثریت لبنان میں فوجی کارروائی جاری رکھنے کی حامی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا اشارہ ملتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قیادت نے جنگ کے اہداف کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، جن میں ایران کی حکومت کا خاتمہ اور اس کے جوہری و میزائل پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کرنا شامل تھا، مگر یہ مقاصد حاصل نہ ہو سکے۔ اس صورتحال نے عوام میں مایوسی کو جنم دیا ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں، خصوصاً یائر لاپڈ نے جنگ بندی کو حکومتی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو امریکی فیصلوں کا تابع بنا دیا گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق “تاریخی فتح” کے دعوے حقیقت میں ایک بڑی اسٹریٹجک ناکامی میں بدل گئے۔
اگرچہ اسرائیل امریکا کے ساتھ قریبی روابط کا دعویٰ کرتا ہے، تاہم حقیقت میں ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی اثر و رسوخ نمایاں ہے۔ موجودہ صورتحال میں نیتن یاہو کو عوامی دباؤ اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے، جو ان کی قیادت کے لیے ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔














