اسرائیل کی درندگی جاری: اہلخانہ کے لیے کھانا لینے جانے والوں کی مزید 57 لاشیں خالی ہاتھ گھر واپس

بدھ 11 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

غزہ میں امداد کے منتظر فلسطینیوں کو خوراک فراہم کرنے کی بجائے اسرائیل کی جانب سے گولیاں مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بدھ کے روز بھی اپنے گھر والوں کے لیے کھانا و امداد لانے والے کم از کم 57 افراد کی لاشیں واپس آئیں جس نے فلسطینی مسلمانوں کے دل مزید چھلنی کردیے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ میں امداد کی تقسیم کے دوران اسرائیلی حملے، اقوام متحدہ نے تحقیقات کا مطالبہ کردیا

اسرائیلی فوج نے بدھ کی صبح غزہ کی پٹی کے شمال اور جنوب کو تقسیم کرنے والی نیتساریم چوکی پر موجود شہریوں پر اس وقت گولیاں چلا دیں جب وہ انسانی امداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے

الجزیرہ کے مطابق بدھ کی صبح سے امداد کے متلاشی کم از کم 57 افراد اسرائیل کے ہاتھوں شہید کردیے گئے جبکہ 363 سے زائد زخمی ہوئے جس سے امداد کی تقسیم کے مراکز پر مرنے والوں کی کل تعداد 224 ہو گئی جب کہ 1،858 دیگر زخمی ہوئے۔

علاوہ ازیں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 120 فلسطینی شہید اور 474 زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل 3 لاشیں بھی ملبے سے نکالی گئی تھیں۔

مزید پڑھیے: غزہ میں امدادی سامان کی تقسیم کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ، 30 فلسطینی شہید

دریں اثنا عرب میڈیا کے اسرائیلی فوج نے وسطی غزہ کے علاقے النصیرات پر بھی متعدد فضائی حملے کیے، جن میں 2 فلسطینی جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی غزہ کے خان یونس اور شمالی علاقوں پر بم باری جاری رکھی جب کہ مغربی ساحل پر مواصی کے علاقے پر بحری جنگی جہازوں نے بھی گولہ باری کی۔

مزید پڑھیں: غزہ دنیا کا ’سب سے بھوکا علاقہ‘ قرار، اقوام متحدہ کا انتباہ

اسرائیلی فضائی حملے میں مواصی (خان یونس) میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 4 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے تقریباً 60 فلسطینی جاں بحق ہوئے تھے۔ ان میں سے اکثریت امدادی سامان حاصل کرنے کی کوشش کے دوران تقسیم کے مقام نیتساریم کے قریب جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔

گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران شہریوں پر حملے اور امداد حاصل کرنے کے دوران ایسے واقعات کئی بار پیش آ چکے ہیں، خصوصاً ان مراکز کے باہر جو اس وقت غزہ یومینیٹرین فاؤنڈیشن کے زیر انتظام ہیں۔

ان واقعات نے اقوام متحدہ اور امدادی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کو جنم دیا ہے جنہوں نے اس امریکی اسرائیلی فاؤنڈیشن کی جانب سے 2 ہفتے قبل تیار کی گئی تقسیم کاری کی حکمت عملی کو ناکام اور غیر مؤثر قرار دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سابق بنگلہ دیشی کپتان شکیب الحسن کی رہائش گاہ پر پیٹرول بموں سے حملہ، سبب کیا بنا؟

خضدار: رشتے سے انکار پر خاندان کے 3 افراد قتل، اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رپورٹ طلب کرلی

3 گنا قیمت، جعلی اور ایکسپائر اشیا، سلمیٰ بٹ کا موٹروے ریسٹ ایریاز پر موجود مارٹس کے خلاف سخت ایکشن

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ