جنگ کی قیمت کمر توڑ دیتی ہے

منگل 17 جون 2025
author image

وسی بابا

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

16 کروڑ 70 لاکھ ڈالر (167 ملین ڈٖالر) ایرانی حملوں کو روکنے پر ایک رات میں لگ رہے ہیں۔ یہ کوئی 46 ارب پاکستانی روپے بنتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اسرائیلی نیوز سائٹ ہارٹز نے دیے ہیں۔

پاکستانی روپوں کا ذکر آیا ہے تو ہم پاکستانی اس جنگ کا فوری نتیجہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت بھگت رہے ہیں۔ گھریلو استعمال کے لیے ایل پی جی ایران سے آتی ہے جس کی قیمت کو پَر لگ چکے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی7 اجلاس چھوڑ کر واپس امریکا پہنچ گئے ہیں۔ امریکا میں وہ اپنی نیشنل سیکیورٹی کونسل کی میٹنگ طلب کرکے صورتحال پر غور کریں گے۔ ٹرتھ سوشل پر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا ہے کہ ’ایران کو نیوکلیئر ڈیل پر دستخط کردینے چاہیے تھے، انسانی جانوں کا ایسے ضائع ہونا شرمناک ہے، ایران نیوکلیئر بم نہیں رکھ سکتا، یہ میں کئی بار کہہ چکا ہوں، سب لوگ فوری طور پر تہران چھوڑ دیں‘۔

اسرائیلی وزیراعظم نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’آئیں ہم ایران کو دوبارہ عظیم بنائیں‘۔ اس سے نیتن کی مراد یہ تھی کہ ایران کے موجودہ سیاسی نظام کا خاتمہ ہوگا۔ ایران میں اپنے مقاصد کو 2 سے بڑھا کر اب اسرائیل نے 3 کرلیا ہے۔ پہلے نیوکلیئر پروگرام اور میزائل پروگرام کا خاتمہ تھا اب بُرائی کا محور ختم کرنا بھی مقصد بتایا جارہا ہے۔ اس سے مراد ایرانی رجیم کی تبدیلی ہے۔ گل ودھ رہی ہے۔

حالت یہ ہے کہ خود اسرائیلی میڈیا کے مطابق جو کام اسرائیلی وزیراعظم نے شروع کیا ہے اس کے خاتمے کے لیے اسرائیل کو امریکی مداخلت کی ضرورت ہے۔ امریکا مداخلت نہیں کرے گا جب تک ایران غلطی نہ کرے اور امریکی فوجی اڈوں کو مشرق وسطیٰ میں نشانہ نہ بنا بیٹھے۔

امریکا نے ویتنام سے اپنے ایئر کرافٹ کیریئر کو مشرق وسطیٰ میں ری پوزیشن ہونے کا کہہ دیا ہے۔ خطے میں موجود بی 52 بمبار طیاروں کو جدید بی2 بمبار طیاروں سے تبدیل کردیا گیا ہے۔ یو ایس ملٹری اسرائیل کو پہلے ہی ایرانی میزائل حملوں کو روکنے میں مدد فراہم کررہی ہے۔ اسرائیل کے پاس صلاحیت نہیں ہے کہ وہ پہاڑوں اور زیر زمین موجود ایرانی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرسکے، اور ایسا کرنے کے لیے امریکی مدد ہی درکار ہے۔

جنگ کی صورتحال کو یہیں چھوڑتے ہیں۔ روسی انٹیلیجنس کی ایک رپورٹ لیک ہوئی ہے۔ یہ رپورٹ 2023 یا 2024 میں لکھا ہوا ایک ڈرافٹ ہے۔ نیویارک ٹائمز نے رپورٹ حاصل کرنے کے بعد اس کو 6 انٹیلیجنس ایجنسیوں سے چیک کروایا اور سب نے تصدیق کی کہ رپورٹ اصلی ہے۔

فروری 2022 میں یوکرین جنگ شروع ہوئی تو روس نے اس جنگ کے لیے اپنے ملٹری اور انٹیلیجنس وسائل یوکرین کی جانب منتقل کردیے۔ ایسا کرتے ہوئے اسے اپنی مشرقی سرحد سے توجہ ہٹانی پڑی۔ چین کے ساتھ روسی سرحد 4 ہزار کلومیٹر طویل ہے جو اب غیر محفوظ ہوگئی ہے۔

صدر ولادیمیر پیوٹن اگرچہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ نو لمٹ پارٹنر شپ کی بات کرتے ہیں تاہم روسی انٹیلیجنس چین کو ایک ’خاموش دشمن‘ تصور کررہی ہے۔ روسی انٹیلیجنس ایف ایس بی کی رپورٹ کے مطابق، 2022 سے چینی انٹیلیجنس سرگرمیوں میں بڑا اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ روسی سائنسدانوں، دفاعی ماہرین اور سرکاری اہلکاروں سے چینی انٹیلیجنس نے رابطے بنا لیے ہیں۔

روسی انٹیلی جنس نے چینی سرگرمیوں کو کاؤنٹر کرنے کے لیے اتانتے فور (Entente) نامی آپریشن بھی شروع کر رکھا ہے۔ روسی انٹیلیجنس کا کہنا ہے کہ چینی یونیورسٹیاں، ریسرچ مشنز اور تجارتی کمپنیاں روسی سرزمین پر آکر دفاعی، سائنسی اور انفرااسٹرکچر اور رنادرن سی روٹ متعلق معلومات حاصل کر رہی ہیں۔

بات صرف اتنی ہے کہ جب کوئی ملک جنگ میں جاتا ہے تو دوستانہ تعلقات بھی پہلے جیسے نہیں رہتے۔ ریاستیں اپنے مفاد میں جو مناسب ہوتا ہے ویسی پیشرفت کرتی ہیں اور مواقع سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ پاکستان میں جنگ کو لے کر جذبات کا طوفان اٹھا لیا جاتا ہے۔ پہلے یوکرین جنگ کی وجہ سے دنیا میں فوڈ آئٹم کی سپلائی چین متاثر ہوئی جس کو ہم نے براہ راست بھگتا۔ اب ہمارے ہمسائے میں جنگ لگ گئی ہے تو اس کا اثر ہم پر لازمی آئے گا۔ ہم مہنگے بل اور خریداریاں کریں گے اور اپنی حکومت پر اگ گولہ ہوتے رہیں گے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

نواز شریف کا لاہور کے مختلف علاقوں کا دورہ، ترقیاتی کاموں اور تزئین و آرائش کا جائزہ

ایران جنگ میں نیا محاذ، ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر امریکی ملکیت کا دعویٰ، تہران کا سخت جواب

امریکی سینیٹر کوری بُوکر کا پاکستان کے کردار کا اعتراف، مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اہم قرار

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘