پاکستان کی اہم سفارتی کامیابی، اقوام متحدہ میں سرحد پار آبی تعاون تسلیم

بدھ 7 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے محفوظ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے انسانی حق سے متعلق قرارداد اتفاقِ رائے سے منظور کرلی۔

پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں قرارداد کے حتمی متن میں پہلی بار سرحد پار آبی تعاون کا واضح حوالہ شامل کیا گیا۔ قرارداد جرمنی اور اسپین کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جبکہ پاکستان نے سرحد پار آبی تعاون کو قرارداد کا حصہ بنانے کے لیے فعال کردار ادا کیا۔

مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ برقرار رہے گا، کیونکہ یہی خطے میں امن، استحکام اور آبی تعاون کی بنیاد ہے، عطا اللہ تارڑ

بھارت نے قرارداد سے سرحد پار آبی تعاون کا حوالہ ختم کرنے کی کوشش کی، تاہم انسانی حقوق کونسل کے تمام 47 رکن ممالک نے قرارداد کو اتفاقِ رائے سے منظور کرلیا۔

قرارداد میں واضح کیا گیا کہ سرحد پار آبی تعاون محفوظ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے انسانی حقوق کے حصول سے براہِ راست منسلک ہے۔

پاکستانی فرسٹ سیکریٹری عدیل کھوکھر نے کہا کہ مشترکہ پانیوں پر تعاون ہمسایہ ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے، کوئی بھی بالائی دریا والا ملک پانی کو سیاسی دباؤ اور اثر و رسوخ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کرسکتا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ویانا میں عالمی آبی سمپوزیم سے ویڈیو خطاب میں بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی مذمت کی اور سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

مزید پڑھیں:جب آبی سلامتی اسٹریٹیجک سلامتی بن جائے: سندھ طاس معاہدہ اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کو درپیش چیلنج

انہوں نے کہا کہ مشترکہ دریا امن و تعاون کا ذریعہ ہونے چاہئیں، دباؤ کا نہیں، جبکہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp