جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے محفوظ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے انسانی حق سے متعلق قرارداد اتفاقِ رائے سے منظور کرلی۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں قرارداد کے حتمی متن میں پہلی بار سرحد پار آبی تعاون کا واضح حوالہ شامل کیا گیا۔ قرارداد جرمنی اور اسپین کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جبکہ پاکستان نے سرحد پار آبی تعاون کو قرارداد کا حصہ بنانے کے لیے فعال کردار ادا کیا۔
بھارت نے قرارداد سے سرحد پار آبی تعاون کا حوالہ ختم کرنے کی کوشش کی، تاہم انسانی حقوق کونسل کے تمام 47 رکن ممالک نے قرارداد کو اتفاقِ رائے سے منظور کرلیا۔
قرارداد میں واضح کیا گیا کہ سرحد پار آبی تعاون محفوظ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے انسانی حقوق کے حصول سے براہِ راست منسلک ہے۔
Video of the keynote address by Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 at the “International Water Symposium” organized by the Diplomatic Academy of Vienna, Austria, on 6 October 2026 https://t.co/7Z58nRMuvx
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 6, 2026
پاکستانی فرسٹ سیکریٹری عدیل کھوکھر نے کہا کہ مشترکہ پانیوں پر تعاون ہمسایہ ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے، کوئی بھی بالائی دریا والا ملک پانی کو سیاسی دباؤ اور اثر و رسوخ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کرسکتا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ویانا میں عالمی آبی سمپوزیم سے ویڈیو خطاب میں بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی مذمت کی اور سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
مزید پڑھیں:جب آبی سلامتی اسٹریٹیجک سلامتی بن جائے: سندھ طاس معاہدہ اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کو درپیش چیلنج
انہوں نے کہا کہ مشترکہ دریا امن و تعاون کا ذریعہ ہونے چاہئیں، دباؤ کا نہیں، جبکہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔













