امریکی شہر شکاگو جانے والی برٹش ایئرویز کی ایک پرواز نے لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد اچانک تقریباً 27 ہزار فٹ بلندی کم کردی، جس کے بعد طیارہ کئی گھنٹوں تک انگلینڈ کی فضا میں چکر لگاتا رہا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بوئنگ 777 طیارہ پیر کے روز لندن ہیتھرو ایئرپورٹ سے شکاگو کے لیے روانہ ہوا تھا، تاہم پرواز کے دوران اس کی بلندی تقریباً 36 ہزار فٹ سے کم ہو کر 9 ہزار فٹ کے قریب رہ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: جارجیا میں ہنگامی لینڈنگ کے دوران طیارہ گاڑیوں سے ٹکرا گیا، متعدد افراد زخمی
برٹش ایئرویز کے ترجمان نے بتایا کہ طیارے کو تکنیکی خرابی کے باعث واپس ہیتھرو ایئرپورٹ لانے کا فیصلہ کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق، مسافروں اور عملے کی حفاظت ہمیشہ ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہمارے تربیت یافتہ پائلٹس نے تکنیکی خرابی کے باعث طیارے کو واپس ہیتھرو پہنچایا، جہاں اس نے بحفاظت لینڈنگ کی۔
🚨🇬🇧 #BREAKING | NEWS⚠️
British Airways flight (#BA295) departing from London headed towards Chicago started squawking
7700 emergency when flying over
Ireland 🇮🇪 and has asked for emergency landing back in London. pic.twitter.com/PO9fQvg3dg— Todd Paron🇺🇸🇬🇷🎧👽 (@tparon) October 5, 2026
ترجمان نے مزید بتایا کہ مسافروں نے معمول کے مطابق طیارے سے اترنے کے بعد اپنی سفری ضروریات کے لیے ایئرلائن کی ٹیم سے تعاون حاصل کیا۔
پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ اویئر کے مطابق طیارہ لندن کی جانب واپس مڑ گیا تھا، تاہم ہیتھرو پر فوری لینڈنگ کے بجائے کئی گھنٹوں تک انگلینڈ کے مختلف علاقوں کے اوپر چکر لگاتا رہا اور بعد ازاں ایئرپورٹ واپس پہنچا۔
مزید پڑھیں: ’ہمیں لگا اب زندہ نہیں بچیں گے‘، کاک پٹ میں پائلٹ لڑ پڑے، امارات سے اسرائیل جانے والی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ
تقریباً 40 سال کا پروازوں کا تجربہ رکھنے والے امریکی بحریہ کے ایف اے 18 لڑاکا طیارے کے سابق پائلٹ میتھیووِزبکلی نے صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ طیارے کا پرواز کا انداز ممکنہ طور پر ہنگامی طور پر بلندی کم کرنے سے مطابقت رکھتا ہے، جو کیبن پریشر میں خرابی کی صورت میں کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق اگر طیارے میں کیبن پریشر کا مسئلہ پیدا ہوجائے تو اسے 10 ہزار فٹ سے کم بلندی پر لانا ضروری ہوسکتا ہے تاکہ مسافروں اور عملے کے لیے اضافی آکسیجن کی ضرورت ختم یا کم کی جاسکے۔
A British Airways flight dropped about 27,000 feet in 10 minutes while en route from London en route to Chicago on Monday, according to flight data.
A spokesperson for British Airways said there was a technical issue and that the aircraft later landed safely. pic.twitter.com/bn4GCdyMJY
— CBS News (@CBSNews) October 6, 2026
بکلی نے کہا کہ بظاہر پائلٹس نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے طے شدہ طریقہ کار پر عمل کیا اور طیارے کا نظام توقع کے مطابق کام کرتا رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ مسافروں کے لیے اچانک بلندی میں اتنی نمایاں کمی ایک پریشان کن تجربہ ہوسکتی ہے، خصوصاً اگر دورانِ پرواز آکسیجن ماسک بھی فعال ہوگئے ہوں۔
مزید پڑھیں: دوران پرواز بھارتی مسافر طیارے میں فنی خرابی، دلی میں ہنگامی لینڈنگ
طیارے کے ہیتھرو واپس آنے سے قبل کئی گھنٹوں تک فضا میں چکر لگانے کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے، ماہر کے مطابق اس کی ایک ممکنہ وجہ طیارے کا زیادہ وزن ہوسکتی ہے۔
بکلی نے وضاحت کی ہے کہ بین البراعظمی پرواز کے لیے روانہ ہونے والا طیارہ بڑی مقدار میں ایندھن لے کر اڑتا ہے، اس لیے کسی ہنگامی صورتحال میں فوری لینڈنگ سے قبل طیارے کا وزن مناسب حد تک کم کرنا ضروری ہوسکتا ہے۔
مزید پڑھیں: لاہور سے جدہ جانے والی پرواز تباہی سے بچ گئی، کراچی میں ہنگامی لینڈنگ، تمام مسافر محفوظ
اگر ایندھن فضا میں خارج نہ کیا جاسکے تو طیارہ کچھ دیر تک چکر لگا کر ایندھن خرچ کرسکتا ہے، تاکہ لینڈنگ کے لیے محفوظ وزن حاصل کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ طیارے کو مقررہ حد سے زیادہ وزن کے ساتھ اتارنا مناسب نہیں، کیونکہ اس سے لینڈنگ گیئر اور بریکس پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: بم کی اطلاع پر بھارتی طیارے کی لکھنؤ میں ہنگامی لینڈنگ
بکلی کے مطابق دورانِ پرواز کسی خرابی کی صورت میں پائلٹس کو طیارے کی صورتحال کا جائزہ لے کر زمین پر واپسی کے لیے محفوظ ترین راستے کا تعین کرنا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پائلٹس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک ہنگامی صورتحال کو دوسری مشکل میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔













