بھارتی میڈیا کشمیری استاد کو دہشتگرد ثابت کرنے میں ناکام، عدالت کا 2 میڈیا ہاؤسز کے خلاف مقدمے کا حکم

منگل 1 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہندوستانی مرکزی میڈیا کی جانب سے دہشتگرد قرار دیے گئے کشمیری استاد قاری محمد اقبال کے خلاف تمام الزامات پونچھ کی عدالت نے مسترد کردیے، اور سچ سامنے آنے پر زی نیوز اور نیوز 18 انڈیا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم جاری کردیا گیا۔

47 سالہ قاری محمد اقبال جو پونچھ کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے ایک مدرس تھے، 7 مئی کو پاک بھارت کشیدگی میں شہید ہوگئے تھے۔ تاہم ان کی شہادت کے بعد بھارتی میڈیا نے ایک منظم مہم کے تحت ان پر دہشتگردی کے جھوٹے الزامات عائد کیے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی میڈیا کا پاکستان کو چین کی ذیلی ریاست ظاہر کرنے کا پروپیگنڈا بے نقاب

بھارتی میڈیا کے مختلف چینلز نے قاری محمد اقبال کو مختلف انداز میں بدنام کیا۔ سی این این نیوز 18 نے انہیں پلوامہ حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔ نیوز 18 انڈیا نے انہیں لشکر کمانڈر کہہ کر آزاد کشمیر میں دہشتگردی کے مبینہ اڈوں سے جوڑا۔

اسی طرح زی نیوز نے انہیں نوجوانوں کو دہشتگرد بنانے والا اور این آئی اے کا سب سے مطلوب دہشتگرد قرار دیا، جبکہ ریپبلک ٹی وی نے انہیں لشکر طیبہ کا اہم کمانڈر ظاہر کیا۔

عدالت میں 2 ماہ تک جاری قانونی جدوجہد اور عوامی دباؤ کے بعد پونچھ کی عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ قاری محمد اقبال دہشتگرد نہیں بلکہ ایک استاد تھے۔ عدالت نے بھارتی میڈیا کے ان بے بنیاد الزامات کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ انہیں صحافتی بددیانتی کی بدترین مثال قرار دیا۔

فیصلے میں زی نیوز اور نیوز 18 انڈیا کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت کے مطابق ان اداروں نے بغیر کسی ثبوت کے قاری محمد اقبال کی شہرت کو نقصان پہنچایا اور جھوٹے بیانیے کے ذریعے عوام کو گمراہ کیا۔

یہ واقعہ بھارتی میڈیا کے اس منفی رجحان کو بے نقاب کرتا ہے جہاں مسلمان شناخت رکھنے والے افراد کو بغیر تحقیق محض ریاستی بیانیے کے تحت دہشتگرد قرار دیا جاتا ہے۔ قاری اقبال جیسے بے گناہ افراد کو نشانہ بنا کر میڈیا نے اپنے سیاسی عزائم اور قوم پرستانہ ایجنڈے کو ترجیح دی، جس سے انسانی وقار، مذہبی ہم آہنگی اور صحافتی اخلاقیات بری طرح متاثر ہوئیں۔

اس پورے واقعے سے یہ واضح ہو گیا کہ ہندوستانی میڈیا نے خود کو خبر رساں ادارے سے زیادہ ایک سیاسی ہتھیار میں تبدیل کرلیا ہے جو حکومت کے نظریاتی ایجنڈے کی ترویج کرتا ہے، اور جس میں کشمیری مسلمانوں کو ظلم و زیادتی کا شکار بنانا معمول کا عمل ہے۔

آج کے بھارت میں محب وطن کی تعریف صرف اس وقت دی جاتی ہے جب کوئی شخص ہندو قوم پرستی کے بیانیے کو قبول کرے، ورنہ وہ ملک دشمن سمجھا جاتا ہے۔ معصوم افراد کو جھوٹے الزامات کے تحت مجرم بنانا اور ان کے خاندانوں کو ذہنی اور سماجی اذیت میں مبتلا کرنا اس میڈیا دہشتگردی کی ایک تلخ حقیقت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی شہروں پر قبضے سے متعلق بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا، مگر حقیقت کیا ہے؟

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صحافت کی جگہ پروپیگنڈے نے لے لی ہے اور انسانی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا عام ہو چکا ہے، جس کی بدولت نہ صرف ایک انسان کی شہرت تباہ ہوتی ہے بلکہ پورے معاشرے میں فرقہ واریت اور نفرت کو بھی ہوا دی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خیبر پختونخوا: بنوں اور لکی مروت میں پولیس امن کمیٹی کا منصوبہ ناکام

امریکا میں سندھ طاس معاہدے پر عالمی سیمینار، بھارتی اقدامات خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار

روزگار، تعلیم، صحت اور ڈیجیٹل معیشت، افتخار گیلانی کا آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے روڈ میپ سامنے آگیا

گل پلازہ سانحہ: جوڈیشل کمیشن کی 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ منظرعام پر آگئی، اہم انکشافات

صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، وزیر خزانہ

ویڈیو

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں