بھارت میں 25 کروڑ سے زائد مزدوروں اور کسانوں نے نریندر مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں، مزدور قوانین میں ترمیم، بے روزگاری، اور عوامی اثاثوں کی نجکاری کے خلاف ‘بھارت بند’ کے نام سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا۔
9 جولائی کو ہونے والے اس ہڑتال نے بھارت میں بینکوں، تعمیراتی کام، صنعتی پیداوار، ڈاک خدمات اور ٹرانسپورٹ جیسے اہم شعبوں کو مکمل طور پر معطل کر دیا۔ لاکھوں افراد نے سڑکوں پر آ کر مرکزی حکومت کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی معیشت کو بڑاجھٹکا،امریکا کیساتھ تجارت پر 10فیصد ٹیرف عائد ہوگا
یہ احتجاج 10 مرکزی ٹریڈ یونینوں اور کسان تنظیموں کی مدد سے منظم کیا گیا تھا۔ مظاہرین نے حکومت کے نئے لیبر کوڈز کو ‘مزدور دشمن’ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان نئے قوانین کے تحت کام کے اوقات میں اضافہ کیا گیا ہے، ہڑتال کا حق محدود کر دیا گیا ہے، محنت کشوں کو قانونی تحفظ سے محروم کر دیا گیا ہے، اور ایک غیر منصفانہ پنشن نظام نافذ کیا گیا ہے۔
مودی حکومت کے معاشی ایجنڈے کے خلاف بھی سخت آوازیں بلند ہوئیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت ایک منظم طریقے سے ملک کے عوامی اثاثے، جن میں ریلویز، بینک، کوئلہ صنعت، اور دیگر ادارے شامل ہیں، نجی کارپوریشنوں کے حوالے کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کروڑوں نوجوان بے روزگار ہیں، سرکاری نوکریوں کی لاکھوں آسامیاں خالی پڑی ہیں، اور محنت کش مستقل روزگار، منصفانہ اجرت، اور مہنگائی کے خلاف تحفظ کے لیے ترس رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کیخلاف لاکھوں مزدور سڑکوں پر آگئے، بھارت بھر میں ہڑتال
احتجاج کے دوران ایک ہولناک مثال آسام کے ضلع دھوبری سے سامنے آئی، جہاں عدانی گروپ کے 3,500 میگاواٹ پاور پلانٹ کے لیے 2 دو ہزار سے زائد مسلم خاندانوں کے گھر بلڈوز کر دیے گئے۔ مظاہرین نے اسے ‘کارپوریٹ ریاستی جبر’ اور ‘فرقہ وارانہ بے دخلی’ کی ایک افسوسناک مثال قرار دیا۔
‘بھارت بند’ کا سب سے زیادہ اثر کیرالہ، مغربی بنگال، اوڈیشہ اور بہار میں دیکھا گیا۔ ان ریاستوں میں ریل کی پٹریاں بند کر دی گئیں، بازار مکمل طور پر بند رہے، سڑکیں سنسان ہو گئیں اور لاکھوں افراد نے صنعتی و خدماتی اداروں میں کام بند کر دیا۔













