’امریکا پاکستان پورٹس ویبینار‘ کے ذریعے بندرگاہوں پر تجارتی خدمات کے نئے مواقع

بدھ 16 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی محکمہ تجارت کے انٹرنیشنل ٹریڈ ایڈمنسٹریشن اور امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کی وزارت بحری امور کے اشتراک سے ایک اہم ویبینار کا انعقاد کیا ہے، جس میں 65 سے زائد امریکی کمپنیوں نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: گوادر بندرگاہ اقتصادی راہداری کا ایک کلیدی جزو بن چکی ہے،چینی میڈیا

اس ویبینار کا مقصد کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم میں موجود تجارتی مواقع کو تلاش کرنا اور ان سے فائدہ اٹھانا تھا۔ یہ ویبینار Gateways to Growth: South Asia Port Opportunities سیریز کا حصہ تھا،جو امریکی کمپنیوں کو پاکستانی بندرگاہی حکام اور نجی آپریٹرز سے براہِ راست رابطے کے لیے ایک حکمتِ عملی پر مبنی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

وزارت بحری امور، پورٹ قاسم اتھارٹی، ابوظہبی پورٹس (جو کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ چلاتی ہے)، اور دبئی پورٹس ورلڈ (جو قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل چلاتی ہے) کے سینیئر نمائندگان نے پاکستان کی بندرگاہی بنیادی ڈھانچے، ریگولیٹری ماحول، اور تجارتی ترجیحات پر روشنی ڈالی۔

اس موقع پر امریکا کے قونصل جنرل اسکاٹ اُربم نے کہا ’امریکی سرمایہ کاروں نے پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ بندرگاہوں کے شعبے میں بھی ہم مل کر نمایاں کامیابی حاصل کریں گے۔‘

یہ بھی پڑھیں: کراچی بندرگاہ پر دنیا کا خوبصورت ترین جہاز لنگر انداز

انہوں نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ باہمی تعاون کے ذریعے ہم پاکستان کے بندرگاہی شعبے کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لاسکتے ہیں، امریکی کاروباروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرسکتے ہیں اور پاکستان کی معاشی ترقی میں مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔

یہ ہائبرڈ ویبینار اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی کمپنیاں کس طرح پاکستان کے بندرگاہی ترقیاتی منصوبوں میں حصہ لے سکتی ہیں، تجارتی عمل کو مزید تیز کرسکتی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان جدید سپلائی چین روابط قائم کرسکتی ہیں۔

یو ایس انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کے ڈائریکٹر برائے آئی سی ٹی اور انفراسٹرکچر پالیسی، ایان ہنڈلی نے کہا کہ یہ اقدام امریکی کمپنیوں کو مقامی فیصلہ سازوں تک براہِ راست رسائی اور مارکیٹ انٹیلیجنس فراہم کرتا ہے، جس سے انہیں جنوبی ایشیا میں بندرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے سے جڑے شعبہ جات سے فائدہ اٹھانے کے مواقع میسر ہونگے۔

اگرچہ یہ گفتگو ایک کمپیوٹر اسکرین پر شروع ہوئی، لیکن اس کے اثرات آنے والے کئی سالوں تک تجارت اور کاروباری شراکت داریوں کے رخ بدلنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لگژری گاڑیوں پر ٹیکس ریلیف نہیں ملے گا، متوسط طبقے کو سہولت دیں گے، مصدق ملک

پولینڈ میں ایک شخص کی اندھا دھند فائرنگ،5 افراد ہلاک، درجن سے زیادہ زخمی

ایران کے زمینی اور بحری راستوں کی نگرانی بڑھانے کے لیے امریکا کا نئی ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان

ایران کے ایٹمی راز بتانے والے کو 20 ملین ڈالر اور محفوظ پناہ دی جائے گی، امریکا کا اعلان

طالبان ترجمان ذبیع اللہ کا ’داعش‘ کے مکمل خاتمے کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد نکلا، 2 ہزار دہشتگردوں کی موجودگی برقرار

ویڈیو

سُرتال اکیڈمی کے بچوں کی بھارت سمیت دنیا بھر میں دھوم

اسموگ کے خاتمے کے لیے لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا دائرہ وسیع، لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ترقی کے سفر میں لیہ کب شامل ہوگا؟ شہری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے منتظر

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟