طالبان ترجمان ذبیع اللہ کا ’داعش‘ کے مکمل خاتمے کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد نکلا، 2 ہزار دہشتگردوں کی موجودگی برقرار

ہفتہ 7 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے افغانستان کو داعش سے پاک کرنے کے دعوے اور پاکستان میں متحرک ہونے کے الزام کو اقوام متحدہ، پاکستان سمیت دیگر عالمی اداروں نے مکمل مسترد کرتے ہوئے محض بے بنیاد الزامات اور گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

افغانستان میں طالبان رجیم کے ترجمان مولوی ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک آڈیو پیغام میں جھوٹا اور بے بنیاد دعویٰ کیا ہے کہ افغان سرزمین کو کالعدم داعش سے مکمل طور پر پاک کر دیا گیا ہے اور طالبان فورسز نے اس گروہ کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

اپنے پیغام میں ذبیع اللہ نے الزام عائد کیا کہ داعش کے عسکریت پسند اب پاکستانی سرزمین کا استعمال کرتے ہیں، وہاں تربیت حاصل کرتے ہیں اور انہیں وہاں سے سرپرستی ملتی ہے، جس کی وجہ سے یہ خطے کی سلامتی کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اور داعش کے آپریشنل مراکز

ذبیح اللہ مجاہد کے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک ناکام ریاست کے ترجمان کا پروپیگنڈا قرار دیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی مسلسل اور متعدد رپورٹس اس بات کی تصدیق کر چکی ہیں کہ داعش خراسان کے افغانستان میں 2000 کے قریب جنگجو موجود ہیں۔

رپورٹس کے مطابق افغانستان کے صوبے کنڑ، ننگرہار اور ہلمند اس تنظیم کے بنیادی اور اہم آپریشنل مراکز ہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ شام میں داعش کے ٹھکانے تباہ ہونے کے بعد داعش کے دہشتگردوں کی ایک بڑی تعداد افغانستان منتقل ہو چکی ہے۔

اس کے علاوہ طالبان کے وہ عسکریت پسند جو حکومت کی جانب سے تنخواہوں کے پے رول پر جگہ حاصل کرنے میں ناکام رہے، انہوں نے بھی داعش خراسان میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جس سے اس تنظیم کو مزید تقویت ملی ہے۔

افغانستان کا موجودہ تشخص اور عالمی تشویش

تجزیہ کاروں اور مبصرین کے مطابق موجودہ افغان رجیم دہشتگردوں کو پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے اور خود دہشتگردی کے فروغ کا سبب بن رہی ہے۔

افغانستان اس وقت عالمی اور علاقائی سطح پر دہشتگردی کا مرکز اور داعش کے لیے ایک لانچنگ پیڈ بن چکا ہے، اس کے باوجود افغان حکام اپنے نقائص چھپانے کے لیے پاکستان پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔

باجوڑ میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے داعش خراسان کے 2  دہشتگرد ہلاک

باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران افغانستان میں مقیم داعش کے 2   دہشتگردوں کی ہلاکت نے سرحد پار دہشتگرد نیٹ ورکس سے پاکستان کو لاحق سیکیورٹی خطرات کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کر دیا ہے۔

اس کارروائی کو ملک میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی مسلسل کوششوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والے دونوں کارندوں کا تعلق افغانستان سے تھا

رپورٹس کے مطابق باجوڑ میں کارروائی کے دوران داعش خراسان سے وابستہ 2 ایسے کارندے ہلاک ہوئے جنہیں افغانستان میں قائم دہشتگرد نیٹ ورکس سے منسلک قرار دیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والے دونوں افراد کا افغان شہری ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کو درپیش دہشتگردی کے بعض خطرات کی جڑیں سرحد پار افغانستان میں موجود نیٹ ورکس سے وابستہ ہیں۔

اس کارروائی نے سرحد پار دہشتگردی اور افغانستان میں موجود مسلح تنظیموں کی سرگرمیوں کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔

داعش خراسان کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں کا عالمی اعتراف

باجوڑ کی کارروائی کو داعش خراسان کے خلاف پاکستان کی مسلسل انسداد دہشتگردی مہم کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف اپنی کارروائیوں کے ذریعے یہ مؤقف برقرار رکھا ہے کہ ملک میں سرگرم تمام دہشتگرد عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی، خواہ ان کا تعلق کسی بھی تنظیم یا گروہ سے ہو۔

افغانستان میں دہشتگرد پناہ گاہوں کے خلاف مؤثر عالمی اقدامات کا مطالبہ

رپورٹس میں  اس امر پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں افغانستان سے منسلک کارندوں کے سامنے آنے کا سلسلہ خطے کی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہے۔

اس تناظر میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف مربوط حکمت عملی اپنائے، مؤثر انسداد دہشتگردی اقدامات یقینی بنائے اور دہشتگرد پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

داعش خراسان کی افرادی قوت اور سابق دہشتگردوں کی نقل مکانی

یورپی یونین ایجنسی برائے پناہ گزین کی فروری 2026 کی افغانستان سے متعلق رپورٹ میں اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کے 2025 کے تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے داعش خراسان کے دہشتگردوں کی تعداد تقریباً 2,000 بتائی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:افغانستان میں داعش خراسان اب بھی سنگین سیکیورٹی خطرہ ہے، روس کا انتباہ

رپورٹ کے مطابق تنظیم کے جنگجو افغانستان کے شمالی اور شمال مشرقی صوبوں میں منتشر تھے، جبکہ اس کے نیٹ ورکس مختلف علاقوں میں چھوٹے اور غیر مرکزی گروہوں کی شکل میں سرگرم تھے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی اگست 2026 کی رپورٹ میں شام سے افغانستان آنے والے بعض سابق جنگجوؤں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 کے اواخر میں بعض افراد شام سے افغانستان پہنچے، جن میں سے ایک نے نومبر 2025 میں کنڑ میں داعش خراسان کے کمانڈروں سے ملاقات بھی کی تھی۔ تاہم رپورٹ نے شام سے بڑی تعداد میں جنگجوؤں کی افغانستان منتقلی کی تصدیق نہیں کی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں طالبان اور ٹی ٹی پی سے متعلق اہم انکشاف

اقوام متحدہ کی اسی رپورٹ میں افغانستان کی طالبان انتظامیہ پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حمایت جاری رکھنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان انتظامیہ دہشتگرد گروہوں کو پناہ دینے کے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے، تاہم رکن ممالک نے افغانستان میں متعدد دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیاں پڑوسی ممالک اور وسطی ایشیائی خطے کے لیے مسلسل خطرہ ہیں، جبکہ طالبان انتظامیہ کی جانب سے داعش خراسان اور دیگر تنظیموں کے خلاف اقدامات کے باوجود دہشتگردی کے مسئلے پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایرانی شہری کو غیر قانونی پاکستانی شناختی کارڈ جاری کرنے کا الزام، نادرا کے سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار

حکومت کا بڑا معاشی اقدام، ایس ایم ایز کے لیے 300 ارب روپے کی خصوصی فنانسنگ کا اعلان

’این سی سی آئی اے‘ کال سینٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن کیوں کررہی ہے؟

ایک لاکھ کے ڈیپ فریزر پر 35 لاکھ روپے ہرجانے کا مطالبہ، کراچی میں دلچسپ مقدمہ سامنے آگیا

حلقہ این اے 77 میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام، الیکشن کمیشن نے عطا اللہ تارڑ کو طلب کر لیا

ویڈیو

سُرتال اکیڈمی کے بچوں کی بھارت سمیت دنیا بھر میں دھوم

اسموگ کے خاتمے کے لیے لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا دائرہ وسیع، لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ترقی کے سفر میں لیہ کب شامل ہوگا؟ شہری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے منتظر

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟