بنگلور میں جمعے کی صبح اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب شہر کے کم از کم 40 پرائیویٹ اسکولوں کو ای میل کے ذریعے بم دھماکے کی دھمکی موصول ہوئی۔
ان ای میلز میں دعویٰ کیا گیا کہ اسکولوں کی کلاس رومز میں ٹی این ٹی بم نصب کیے گئے ہیں۔ ان ای میلز نے نہ صرف اسکول انتظامیہ بلکہ والدین، طلبا اور سیکیورٹی اداروں کو بھی شدید تشویش میں مبتلا کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی مسافر کا ’یادگار‘ ہوائی سفر، ممبئی سے بنگلورو تک وقت بیت الخلا میں گزرا
دھمکی آمیز ای میلز ایک ایسے نام سے بھیجی گئیں جس میں بھیجنے والے نے اپنا نام ’ Roadkill ‘ ظاہر کیا۔ ای میل آئی ڈی [email protected] استعمال کی گئی۔ دھمکی آمیز متن میں کہا گیا:
’میں تم سب کو مار ڈالوں گا ۔۔۔ مجھے بچوں کی لاشیں دیکھ کر خوشی ہو گی‘۔

اس غیر انسانی اور خوفناک دھمکی کے بعد اسکولوں نے فوری ردعمل دیا، بچوں کو کلاس رومز سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا اور والدین کو ہنگامی طور پر اطلاع دی گئی۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ، مقامی پولیس اور انسداد دہشتگردی فورسز نے فوری طور پر اسکولوں کا محاصرہ کیا اور تلاشی مہم شروع کی۔
اب تک کی معلومات کے مطابق کسی بھی اسکول میں دھماکہ خیز مواد یا مشکوک چیز برآمد نہیں ہوئی۔ پولیس نے ان ای میلز کو جعلی اور فرضی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہر یہ کسی شرپسند عنصر کی شرارت ہے، تاہم مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:دہلی میں پاکستانی سفارتکاروں کے ساتھ ناروا سلوک
بنگلور پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے میڈیا کو بتایا کہ ہم نے تمام اسکولوں سے موصولہ شکایات اکٹھی کر لی ہیں اور سائبر کرائم ونگ نے ای میل کی ٹریکنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ والدین سے گزارش ہے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور پرامن رہیں۔
اسی دوران شہر کے کئی معروف اسکولوں نے بھی اپنی سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔

دھمکی کی اطلاع ملتے ہی اسکولوں میں بھگدڑ کا منظر دیکھنے کو ملا۔ کچھ والدین اپنے بچوں کو جلد از جلد گھر لے جانے کے لیے اسکولوں کے باہر پہنچ گئے۔ کچھ جگہوں پر سڑکوں پر ٹریفک جام بھی دیکھنے کو ملا۔
یہ صرف بنگلور تک محدود نہیں رہا۔ رپورٹ کے مطابق دہلی میں بھی اسی نوعیت کی ای میلز موصول ہوئیں، جس کے بعد وہاں کے چند اسکولوں میں بھی سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
تاحال کسی جگہ سے بھی کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا، لیکن پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ملک گیر سطح پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں ایک اور طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو نشانہ بنانے کی ایسی جھوٹی دھمکیاں نفسیاتی جنگ کا حصہ ہو سکتی ہیں، اور ان کا مقصد عوام میں خوف پھیلانا ہوتا ہے۔ تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے عناصر کی شناخت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں، اور اگر بھیجنے والے کا پتہ چل گیا تو اسے سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ابھی تک کسی گروپ نے ان دھمکیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔













