گزشتہ روز سے پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بہت سی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ نادرا اور امیگریشن حکام نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پاسپورٹ پر والد کے ساتھ اب والدہ کا نام بھی شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد شناخت کے عمل کو مزید جامع اور مساوی بنانا ہے، خاص طور پر ان بچوں کے لیے جن کی کفالت ماں کر رہی ہوتی ہے یا جن کے والد کا ریکارڈ موجود نہیں ہوتا۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نئی پالیسی آئندہ پاسپورٹ اجرا کے عمل میں شامل کی جائے گی، اور اس سے لاکھوں افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان میں اب پاسپورٹ کتنے دنوں میں مل جایا کرے گا؟
ان خبروں کے بعد بہت سے افراد تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ انہوں نے جو ابھی حال ہی میں پاسپورٹس بنوائے ہیں، جن کی مدت 5 یا 10 سال کی ہے۔ ان کا کیا ہوگا؟ اور دوسری جانب یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے۔ کہ یہ پالیسی کب سے لاگو ہوگی؟
اس حوالے سے جاننے کے لیے وی نیوز نے پاسپورٹ آفس سے رابطہ کیا۔ پاسپورٹ آفس ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ جو کہا جا رہا ہے کہ اس فیصلے کی منظوری ہو چکی ہے، یہ غلط ہے۔ کیونکہ ابھی اس پالیسی کے حوالے سے منسٹری میں بات چیت جاری ہے۔ اور اس حوالے سے کسی قسم کا کوئی حتمی فیصلہ بھی نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے فاسٹ ٹریک پاسپورٹ کی سہولت اب مزید 26 شہروں میں دستیاب
ان سے پوچھا گیا کہ وہ افراد جن کے پاسپورٹ کی مدت اچھی خاصی موجود ہے یا جنہوں نے حال ہی میں پاسپورٹ بنوایا ہے، ان کا کیا ہوگا؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ فی الحال اس حوالے سے ابھی تک کوئی چیز سامنے نہیں آئی۔ یقیناً پالیسی منظور ہونے کے ساتھ ہی تمام تر تفصیلات بھی سامنے آ جائیں گی۔ اور ان افراد کے حوالے سے بھی کوئی نہ کوئی راستہ یقیناً موجود ہوگا۔














