رافیل طیاروں کی ناکامی کے باوجود مودی سرکار کی فرانس سے مزید معاہدے کی کوششیں

جمعہ 15 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آپریشن سندور میں رافیل طیاروں کی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات اور بدترین نتائج کے باوجود مودی حکومت ایک بار پھر فرانس سے مزید رافیل لڑاکا طیاروں کے حصول کے لیے سرگرم ہے۔

آپریشن سندور کے بعد خریداری کی دوڑ

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، آپریشن سندور کے بعد اسکواڈرن کی کمی پوری کرنے کے لیے بھارت نے مزید رافیل طیارے خریدنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ بھارتی فضائیہ نے اس حکومتی اقدام کی بھرپور حمایت کی ہے اور فرانس کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔

MRFA منصوبہ اور مقامی تیاری کی کوشش

رپورٹ کے مطابق، بھارتی دفاعی منصوبہ MRFA (ملٹی رول فائٹر ایئرکرافٹ) کے تحت رافیل طیارے غیر ملکی تعاون سے بھارت میں تیار کرنے کی کوشش جاری ہے۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ بھارتی فضائیہ اگلے 2 ماہ میں دفاعی حصولیاتی کونسل سے اس منصوبے کی ابتدائی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، خاص طور پر اس صورت حال میں جب اسکواڈرن کی تعداد کم ہو کر 29 رہ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں پاکستان کے ہاتھوں رافیل گرنے کا بھارتی اعتراف، فرانسیسی کمپنی کے شیئرز مزید گرگئے

جے-10C کی برتری اور رافیل کی سبکی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور میں پاکستانی فضائیہ کے جے-10C طیاروں نے بھارتی رافیل اور SU-30 MKI کے مقابلے میں واضح برتری ثابت کی، جس سے یہ بات آشکار ہو گئی کہ جدید طیارے ہونے کے باوجود پیشہ ورانہ صلاحیت کی کمی بھارتی فضائیہ کی کمزوری بنی ہوئی ہے۔

مہنگی خود فریبی یا حقیقی ضرورت؟

ماہرین کے مطابق، مزید رافیل طیاروں کی خریداری دراصل ایک مہنگی خودفریبی ہے، کیونکہ فضائی لڑائیاں صرف جدید ہتھیاروں سے نہیں بلکہ پائلٹس کی مہارت، تربیت اور پیشہ ورانہ تیاری سے جیتی جاتی ہیں۔

کرپشن، سیاست اور ہزیمت

آپریشن سندور نے بھارتی فضائیہ میں کرپشن، سیاسی اثر و رسوخ، اور پیشہ ورانہ کمزوری کو نمایاں کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے پاک فضائیہ نے جدید بھارتی رافیل کیسے گرائے؟ برطانوی خبر رساں ایجنسی کی خصوصی رپورٹ شائع

ناقدین کے مطابق، مودی حکومت اور بھارتی افواج کی قیادت آر ایس ایس بیانیے، ہندوتوا نعرے بازی اور رشوت کے کلچر میں الجھی ہوئی ہے، اور یہ جنگی جنون بھارت کو بار بار شرمناک ناکامی کی طرف لے جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp