کنگنا رناوت نے ڈیٹنگ ایپ صارفین کو ’ معاشرے کا  گٹر‘  کیوں قرار دیا ؟

جمعہ 15 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی اداکارہ اور سیاستدان کنگنا رناوت نے ڈیٹنگ ایپس استعمال کرنے والوں کو معاشرے کا ’گٹر‘ قرار دیا اور ان خواتین کے کردار پر سوال اُٹھایا جو ایسی ایپس کا استعمال کرتی ہیں۔

’ڈیٹنگ ایپ گٹر ہے، استعمال کرنے والا نیچ ہے‘

ہاؤٹر فلائی کے یوٹیوب چینل پر دیے گئے انٹرویو میں کنگنا رناوت سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کبھی ڈیٹنگ ایپ پر پروفائل بنائیں گی؟ انہوں نے فوراً جواب دیا:

’میں نے کبھی ڈیٹنگ ایپ پر جانے کا سوچا بھی نہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کا حقیقی ‘گٹر’ ہے۔ ہر انسان کی ضروریات ہوتی ہیں—مالی، جسمانی یا دیگر—مگر ہمیں خیال رکھنا چاہیے کہ ہم ان ضروریات کو کیسے پورا کرتے ہیں؟

’ہر رات نکل جاؤ‘ — ڈیٹنگ کا بھونڈا کلچر؟

انہوں نے مزید کہا:

’ہر عورت اور مرد کی ضروریات ہوتی ہیں، لیکن ہمیں انہیں شائستہ انداز میں پورا کرنا چاہیے، نہ کہ ‘ہر رات نکل جانے’ جیسا بھونڈا طریقہ اختیار کرنا۔ یہی آج کا ڈیٹنگ کلچر ہے، اور یہ بہت خوفناک ہے۔ ‘

معاشرہ، نفسیاتی پیچیدگیاں اور کمزوری

کنگنا رناوت نے کہا کہ ڈیٹنگ ایپ استعمال کرنے والا وہ شخص ہے جو روایتی طریقوں سے پارٹنر تلاش نہیں کر سکتا، اور ان سے وہ کبھی بات نہیں کریں گی۔ انہوں نے ایسے افراد کو ’شکست خوردہ’ قرار دیا اور کہا کہ ان لوگوں میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے جو وہ آن لائن طریقے سے پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے کنگنا رناوت ایک بار پھر بالی ووڈ پر برس پڑیں، وجہ کیا ہے؟

’جو لوگ دفتر میں، کالج میں یا گھر والوں کے ملانے پر بھی کامیاب نہیں ہو پاتے، اور ڈیٹنگ ایپس پر پہنچ جاتے ہیں، وہ اپنے کردار کا بھی جائزہ لیں۔‘

لائیو-ان ریلیشن شپ: خواتین کے لیے خطرہ؟

مہمان نے لائیو-ان ریلیشن شپ پر کنگنا کی رائے پوچھی، تو انہوں نے شادی کی اہمیت پر زور دیا اور لائیو-ان کو خواتین کے لیے موزوں قرار نہیں دیا:

’شادی معاشرے میں بہت ضروری ہے کیونکہ یہ مرد کا اپنی بیوی کے ساتھ وفاداری کا وعدہ  ہوتا ہے۔ لائیو-ان ایسے اقدامات ہیں جو خواتین کے لیے محفوظ نہیں—اگر آپ حاملہ ہو جائیں، تو آپ کا کون خیال رکھے گا؟‘

یہ بھی پڑھیے کنگنا رناوت کو ایئر پورٹ پر سی آئی ایس ایف کانسٹیبل نے تھپڑ کیوں مارا؟

جنس اور جذبات کا نفسیاتی زاویہ

جب میزبان نے اداکارہ کو یاد دلایا کہ لائیو-ان قانونی ہے، تو کنگنا رناوت نے جواب دیا کہ بیشتر قوانین خواتین کے تحفظ کے لیے ہیں، لیکن لوگ – خصوصاً مرد – جذبات کو علیحدہ رکھ سکتے ہیں جبکہ عورتیں ایسا نہیں کر سکتیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑی کمپنیوں کے سربراہان کو صدارتی سائنس و ٹیکنالوجی کونسل میں شامل کرلیا

مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری

ایران کے خلیجی ممالک پر حملے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ

مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب، چین کی سیمی کنڈکٹر صنعت میں غیر معمولی تیزی

عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان دشمنوں سے ملاقاتیں، عابد شیر علی نے سوالات اٹھا دیے

ویڈیو

ٹرمپ کی چیخیں، امریکا لیٹ گیا، اسلام آباد میں اہم بیٹھک، مذاکرات خفیہ کیوں؟

اورکزئی کی رابعہ بصری جو حصول علم کے لیے میلوں پیدل سفر کرتی ہیں

گلگت بلتستان کے شہریوں کا پاکستان کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کا عزم

کالم / تجزیہ

کرکٹ ورلڈ کپ 92‘ فتح کا 34واں سال

کیا عارضی جنگ بندی مستقل ہو سکتی ہے؟

جالب نامہ