سوئی ناردرن کا ایک اور جھٹکا، گیس 291 روپے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست

پیر 25 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سوئی ناردرن گیس کمپنی نے ایک بار پھر گیس مہنگی کرنے کی درخواست اوگرا کو دے دی ہے۔ کمپنی نے اپنے اخراجات اور لائن لاسز کم کرنے کے بجائے آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے 291 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کی مانگ کی ہے، جو گیس اور اس کی ترسیل (ٹرانسپورٹیشن) دونوں مدوں میں طلب کیا گیا ہے۔

لاہور میں سوئی ناردرن ہیڈ آفس میں منعقدہ عوامی سماعت کے دوران اوگرا کے چیئرمین مسرور احمد خان نے کہا کہ فیصلہ کمپنیوں اور صارفین دونوں کے مفاد کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا، تاہم ٹیرف میں اضافہ ایک مجبوری بنتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عوام کے لیے خوشخبری، اوگرا نے ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کردی

ان کا کہنا تھا کہ صارفین کو ریلیف دینے کے لیے گیس کمپنیوں کے بینچ مارک سخت کیے گئے ہیں۔ اوگرا نے سوئی ناردرن کی 84 ارب اور سوئی سدرن کی 57 ارب روپے کی ریونیو ریکوائرمنٹس مسترد کرتے ہوئے مجموعی طور پر 141 ارب روپے کی کٹوتی کر دی ہے، چیئرمین کے مطابق کوشش ہے کہ قیمتوں کو قابو میں رکھا جائے، لیکن ساتھ ہی کمپنیوں کے مالی خسارے کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔

سماعت کے دوران سی این جی اور ٹیکسٹائل سمیت مختلف صنعتی شعبوں کے نمائندوں نے اس اضافے کی شدید مخالفت کی، سی این جی ایسوسی ایشن کے صدر غیاث پراچہ نے کہا کہ سوئی ناردرن اپنے شاہانہ اخراجات کم کرنے کے بجائے سارا بوجھ صارفین پر ڈال رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے 271 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ مانگا گیا تھا، اب اس میں 20 روپے مزید ایل این جی ٹرانسپورٹیشن چارجز بھی شامل کر لیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں:ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، اوگرا کی وضاحت

غیاث پراچہ نے مزید کہا کہ ملک میں گیس وافر مقدار میں موجود ہے لیکن گھریلو، کمرشل اور انڈسٹریل صارفین کو شدید لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ ایل پی جی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صارفین کو گیس فراہم کی جائے اور قیمتوں میں کمی کی جائے۔

عوامی سماعت میں شریک دیگر صارفین نے بھی گیس مہنگی کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے اوگرا پر زور دیا کہ ٹیرف میں اضافہ کم سے کم رکھا جائے تاکہ عوام پر مزید بوجھ نہ پڑے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp