پاکستان کے لیے ایل این جی کی خریداری میں عالمی کمپنیوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں مختلف ہفتوں میں کم ترین بولیوں نے قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ کو ظاہر کیا ہے، جبکہ آذربائیجان کی کمپنی سوکار نے بھی سپلائی میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
27 سے 30 اپریل کے دوران Total Energies Gas & Power Limited نے 18.8800 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی کم ترین بولی دے کر سبقت حاصل کی۔
یکم سے 7 مئی کے عرصے میں Vitol Bahrain نے 18.5400 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی پیشکش کی، جو اس مدت کے دوران سب سے کم بولی تھی۔
بعد ازاں 8 سے 14 مئی کے لیے OQ Trading نے 17.9970 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی بولی دے کر دیگر کمپنیوں کو پیچھے چھوڑ دیا، جبکہ اسی مدت میں Vitol Bahrain کی پیشکش 18.7400 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو رہی۔
یہ بھی پڑھیے آبنائے ہرمز کشیدگی: قطر سے ترسیل متاثر، پاکستان کا اسپاٹ ایل این جی خریدنے کا فیصلہ
دوسری جانب آذربائیجان کی سرکاری توانائی کمپنی SOCAR نے بھی حال ہی میں پاکستان کو ایل این جی فراہم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ کمپنی نے 2025 کے ایک فریم ورک معاہدے کے تحت سپلائی کی پیشکش کی ہے، جس کے ذریعے SOCAR ٹریڈنگ کے ذریعے تیز رفتار خریداری ممکن ہو سکے گی۔
توانائی ماہرین کے مطابق مختلف کمپنیوں کی جانب سے کم قیمت بولیوں کی پیشکش پاکستان کے لیے ایل این جی کی درآمدی لاگت میں کمی کا باعث بن سکتی ہے، تاہم حتمی فیصلہ حکومتی پالیسی اور معاہدوں کی شرائط پر منحصر ہوگا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان نے ہنگامی بنیادوں پر اضافی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کارگوز حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
مزید پڑھیں: بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم، ایل این جی کارگو آجانے سے حالات بہتر ہوگئے، اویس لغاری
ذرائع کے مطابق قطر انرجی نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے 2 طے شدہ ایل این جی کارگوز کو آبنائے ہرمز سے گزارنے میں ہچکچاہٹ ظاہر کی ہے، جس کے بعد حکومتِ پاکستان نے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
نیشنل کرائسس مینجمنٹ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان ایل این جی لمیٹیڈ (پی ایل ایل) کو ہدایت دی جائے کہ وہ اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کارگوز کے حصول کے لیے نئے ٹینڈر جاری کرے تاکہ گیس کی فراہمی کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے حکام کے مطابق اسلام آباد قطر کے حکام سے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ معطل کارگوز کی ترسیل ممکن بنائی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ محفوظ گزرگاہ یقینی بنائی جا سکے، تاہم خطے کی غیر یقینی سیکیورٹی صورتحال کے باعث سپلائرز محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایل این جی کی آمد سے توانائی بحران میں ریلیف، پاکستان میں سپلائی بحال، قطر سے 4 کارگو کے حصول کی کوششیں تیز
یاد رہے کہ پی ایل ایل نے 23 اپریل کو ایک ٹینڈر جاری کیا تھا، جس کے تحت ٹوٹل انرجیز کو 18.4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے ایک کارگو دیا گیا۔ یہ کھیپ 30 اپریل کو ایل این جی جہاز کے ذریعے پورٹ قاسم پر واقع ٹرمینل پر پہنچ چکی ہے۔
سوئی نادرن گیس پائپ لائیز لمیٹیڈ کے مطابق ملک کو مئی کے دوران کم از کم 2 ایل این جی کارگوز کی ضرورت ہے تاکہ گیس کی طلب پوری کی جا سکے۔














