بانی تحریک انصاف عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل میں بھائی سے ملاقات کے موقع پر صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا اور کہاکہ سیاسی نوعیت کے سوالات پارلیمنٹ میں کیے جائیں۔
صحافی نے علیمہ خان سے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی اپنی طاقت کھو رہی ہے؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہم یہاں اپنے بھائی سے ملاقات کے لیے آئے ہیں، سیاست سے متعلق سوالات آپ پارلیمنٹ میں پوچھیں، وہاں آپ کو تسلی بخش جواب مل جائے گا۔
علیمہ خان صاحبہ کا پرانا کچا چٹھا عمار سولنگی @fake_burster نے فلیٹ کی تصویر کے ساتھ شیئر کیا۔ آج اڈیالہ کے باہر صحافیوں خاص کر طیب بلوچ کے ہتھے چڑھ گئیں۔۔۔
جواب نہ ہو تو ایسا ہی ہوتا۔ کلپ دیکھ لیں۔
لگتا محترمہ علیمہ خان صاحبہ کی بھی باری آ گئی ہے۔۔۔اندازہ کریں دو ہزار چار سے… pic.twitter.com/iPCS2Z1KOr— Ahmed Mansoor (@AhmedMansorReal) September 2, 2025
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو خیبرپختونخوا حکومت نے نہیں، پورے سسٹم نے مائنس کیا، علیمہ خان
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے گرفتار ہیں اور ضمانت بھی نہیں ہو رہی۔ ’اس وقت ہم صرف عمران خان سے ملاقات کے لیے آئے ہیں۔‘
ایک اور سوال میں عمران خان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے حوالے سے استفسار کیا گیا تو علیمہ خان نے جواب دیا: ’آپ کون ہیں؟ آپ صحافی نہیں لگتے، کوئی اور ہیں۔‘ انہوں نے وہاں موجود پولیس اہلکاروں سے بھی دریافت کیا کہ کیا یہ شخص صحافی لگتا ہے؟ تاہم ٹوئٹس کے معاملے پر انہوں نے کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا۔
بعد ازاں، شوکت خانم فنڈز سے جائیداد خریدنے کے حوالے سے سوال پر علیمہ خان نے طنزیہ انداز میں کہا ’یہ نیا آیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہاکہ اگر کوئی الزام ہے تو آ کر مجھے گرفتار کر لیں۔ تاہم انہوں نے جائیداد کی خریداری کی تردید بھی براہ راست نہیں کی۔
یاد رہے کہ آج اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کا دن تھا۔ اس موقع پر عمران خان کی بہنیں گورکھ پور ناکا پہنچیں جہاں پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ جس کے بعد تینوں بہنیں پیدل فیکٹری ناکے کی طرف روانہ ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’لگتا ہے مائنس عمران ہو ہی گیا ہے‘، علیمہ خان نے بڑی بات کہہ دی
اس دوران نعیم احمد پنجوتھہ، ظہیر عباس، عاقل خان اور ایم این اے شاہد خٹک بھی فیکٹری ناکا پر موجود تھے، جبکہ بشریٰ بی بی کی بیٹی اور بھابھی اڈیالہ جیل کے گیٹ نمبر 5 تک پہنچ گئیں۔














