ہاتھوں میں ویٹ مشین اور چھڑی تھامے 30 سالہ اللہ بخش سولنگی اندھی آنکھوں کے باوجود زندگی کی روشنی کو اپنے عزم اور محنت سے جگمگا رہا ہے۔ وقت نے اس کی بینائی تو چھین لی لیکن دانائی اور عزتِ نفس سے بھرپور یہ نوجوان کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا بلکہ اپنی محنت سے روزی کماتا ہے۔
مشکل حالات کے باوجود اللہ بخش نے تعلیم کا سفر بھی ترک نہیں کیا۔ 2013 میں ایک دوست کی رہنمائی سے تعلیم کی طرف واپس لوٹے اور ایف اے کا امتحان پاس کر کے یہ ثابت کیا کہ بینائی سے محرومی علم کی روشنی حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
قوت بینائی سے محروم لیکن حوصلے پہاڑسے بلند،کوئٹہ کے نابینا اللہ بخش کی حیران کن کہانی pic.twitter.com/OVyb9MvATc
— WE News (@WENewsPk) September 3, 2025
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اللہ بخش نے بتایا کہ وہ دن میں 6 سے 7 سو روپے کما لیتا ہے جن میں سے تقریباً 4 سو روپے کھانے اور رہائش پر خرچ ہو جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں لوگ اکثر مجھے تنگ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں نابینا نہیں ہوں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ لوگ حقیقت کو دیکھیں۔ میری آنکھوں نے روشنی کھو دی ہے مگر میرے ارادے اب بھی روشن ہیں۔
اللہ بخش نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس کی تعلیم اور معذوری کو مدِنظر رکھتے ہوئے معذور کوٹے میں اسے نوکری دی جائے تاکہ وہ دربدر سڑکوں پر گھومنے کے بجائے ایک باعزت روزگار کما سکے۔
اللہ بخش سولنگی کی کہانی اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ اصل روشنی آنکھوں میں نہیں بلکہ ارادے اور دل میں ہوتی ہے۔ وہ نہ صرف حوصلے اور خودداری کی مثال ہیں بلکہ معذور افراد کے لیے ایک روشن رہنمائی بھی ہیں۔














