گنجان آباد شہرِ قائد جرائم کا گڑھ ہے، آئے روز ایسی کہانی منظرِ عام پر آتی ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جائے، حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بلند و بانگ دعووں کے باوجود ہر تھوڑے عرصے بعد ایسا کیس سامنے آجاتا ہے جس کی وجہ سے اس شہر کو بے یار و مددگار تصور کیا جانے لگتا ہے، قانون موجود، قانون کے رکھوالے موجود لیکن اس کے باوجود جرائم کی ایسے سنگین واردات سامنے آجاتی ہیں کہ جنہیں سزا ملنا معاشرے میں بہتری لانے کے لیے ناگزیر ہوتا ہے لیکن کیا ملزموں کو سنگین الزامات لگنے کے بعد سزائیں مل پاتی ہیں؟
پنکی کو کتنی سزا ہوسکتی ہے؟
سینئر قانون دان خیر محمد خٹک کے مطابق انمول عرف پنکی کے حوالے سے کوکین برآمدگی کی بات کی جائے تو اس کے خلاف سیکشن 9(1)C کوکین برآمدگی کے حوالے سے لگایا گیا ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ 20 اور کم سے کم سزا 15 سال ہے۔ یعنی یہ الزام اگر پولیس ثابت کرتی ہے تو عدالت 20 سال سے زائد اور 15 سال سے کم سزا نہیں دے سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: کوکین کوئین انمول پنکی کن تھانوں کے اہلکاروں کو رشوت دیتی رہی؟ تفتیشی رپورٹ نے سنسنی پھیلا دی
خیر محمد خٹک کے مطابق اسی سیکشن میں زیادہ سے زیادہ 25 لاکھ جبکہ کم سے کم 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوسکتا ہے، پستول برآمدگی کے حوالے سے بات کی جائے تو اس کی 14 برس سزا ہو سکتی ہے۔ لیکن جو بھی الزامات یا کیس پراپرٹی استغاثہ بنائے گی اس کو ثابت کرنا پڑے گا، اگر ہم ان دونوں کیس پراپرٹیز کی بات کریں، اگر یہ ثابت ہوجاتی ہیں تو عدالت چاہے تو مجموعی طور پر زیادہ سے زیادہ 34 سال سزا ہو سکتی ہے اور اس سے کم بھی ہو سکتی ہے۔
سینئر صحافی جنید شاہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کون سے ہائی پروفائل مقدمات ہم نے گزشتہ 5 برس میں سزا ہوتے دیکھے ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ ایسے ہی مقدمات آتے ہیں، سیکشنز لگا دی جاتی ہیں اور پولیس اپنا ہی کیس ایویڈنس عدالت میں ثابت کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوکین کوئین انمول پنکی نے اپنا ’جانشین‘ مقرر کردیا، کلائنٹس آگاہ کردیے گئے، آڈیو پیغام لیک
جنید شاہ کا کہنا ہے کہ انمول عرف پنکی کے حوالے سے بھی نظر چالان پر ہوگی، دیکھنا ہوگا کہ پولیس چالان کیسا پیش کرتی ہے جس کے بعد فردِ جرم عائد کی جائے گی اور ٹرائل شروع ہوگا۔ الزامات اور دعووں سے لے کر فردِ جرم عائد ہونے تک کا جو مرحلہ ہوتا ہے یہ سیٹلمنٹ کا ہوتا ہے، دیکھنا ہوگا کہ کون کس سے کس مد میں سیٹلمنٹ کرتا ہے اور اسی سیٹلمنٹ کی بنیاد پر چالان مرتب کیا جائے گا، ماضی میں دیکھا جا چکا ہے کہ بلند دعوے اور میڈیا ٹرائل ہونے، ریکوریز ہونے کے بعد جب چالان دینے کا وقت آیا تو ملزمان کو ریلیف دیا گیا۔
سینیئر صحافی محمد فاروق سمیع کا کہنا ہے کہ یہاں سزا دینے کا تناسب اب نہ ہونے کے برابر ہے، سزا کو تو چھوڑیے اب تو سزا تک نوبت ہی نہیں جاتی، سزا تک بات جانے سے پہلے ہی معاملہ کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تازہ مثال ارمغان قتل کیس کی ہے، اس طرح کئی مقدمات میں ہم دیکھتے ہیں کیس اتنا کمزور بنا دیا جاتا ہے کہ ثابت کرنا مشکل ہوجائے اور یہ بات تو واضح ہے کہ اگر کیس میں چھوٹی سی بھی غلطی نکل آئے اس کا سارا فائدہ ملزم کو پہنچتا ہے۔













