ایک پرانے فیس بکی دوست، جو امریکا کی ایک معروف یونیورسٹی میں استاد ہیں، اللہ ان کو آسانیاں دے، انہوں نے پچھلے دنوں ایک دلچسپ بات بتائی۔ کہنے لگے کہ امریکا کے کئی پروفیسر اب اپنے ذاتی ویب سائٹ پر 2 طرح کی فہرست رکھتے ہیں۔ ایک کامیابیوں کی اور ایک ناکامیوں کی۔ کامیابیوں والی فہرست تو سب جانتے ہیں، یہ ہر سی وی میں ہوتی ہے، انعامات، اشاعتیں، گرانٹس، عہدے، مگر دوسری فہرست کم لوگ رکھتے ہیں۔ یہ فہرست ان نوکریوں کی ہے جن کے لیے انہوں نے اپلائی کیا اور رد ہوئے، ان مقالوں کی جن کو جریدوں نے مسترد کیا، ان منصوبوں کی جو ناکام ہوئے، ان فنڈنگ کی درخواستوں کی جو بری طرح رد کر دی گئیں۔ یہ فہرست لمبی ہوتی ہے۔
پرنسٹن یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر یوہنس ہاوسوفر نے 2010 میں ایک ایسی فہرست شائع کی تھی، جو 2 صفحات پر مشتمل تھی۔ پہلے صفحے پر ان کی کامیابیاں تھیں، 10 بارہ پوائنٹ جبکہ دوسرے صفحے پر ناکامیاں تھیں، 60 ستر پوائنٹ۔ یہ فہرست انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی۔ لاکھوں نوجوانوں نے اسے دیکھا۔
بات بڑی دلچسپ اور چونکا دینے والی لگی۔ ہم مشرقی لوگ روایتی طور پر اپنی ناکامیاں چھپاتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو اپنے رزلٹ کارڈ کو اپنے گھر میں بھی چھپانے کا رواج ہے۔ اگر نمبر متاثرکن نہیں تو اپنے سگے بھائی بہن کو بھی نہیں دکھاتے۔
ہمارے ہاں ناکامی ایک شرمناک چیز ہے۔ بچے کے فیل ہونے کا مطلب ہے گھر میں دس دن کی ماتمی فضا، رشتہ داروں سے چھپ چھپ کر بات جبکہ دوسری طرف محلے کے گھروں میں خاموش سرگوشیاں اور ایک دوسرے سے فلاں کے بچے کے فیل ہونے کی خبر شیئر کرنا۔
کاروبار میں ناکامی بھی ایک بڑا صدمہ اور شاک ہوتا ہے۔ لوگ اسے بھی چھپاتے ہیں۔ کسی شادی کا ناکام ہونا تو گویا زندگی کا اختتام ہے۔ خاندان والے ڈھکے چھپے طعنے دیتے ملیں گے۔ کوئی بڑا سیانا بن کر کہے گا میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ کام نہیں چلے گا (ایڈا تو سیانا)۔
شادی ٹوٹ جائے تو فوراً قصور وار ڈھونڈا جاتا ہے۔ مرد، عورت، زہریلی ساس، پھپھے کٹنی نند وغیرہ یا حالات، اصل پیغام یہی ہوتا ہے کہ ناکامی شرمناک چیز ہے اور اسے چھپانا چاہیے۔ یہ مفروضہ کئی نسلوں سے ہمارے گھروں میں پل رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے بچے ناکامی سے ڈرتے ہیں، اس قدر ڈرتے ہیں کہ وہ کوشش ہی نہیں کرتے۔
آج کل خاکسار نے پھر سے کتابیں پڑھنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، بعض کی سمری پڑھ لیتا ہوں، ٹیکسٹ اور آڈیو سمری کی الگ سے ایپس بھی ہیں۔ چونکہ میں کتابیں پڑھ رہا ہوں تو اب آپ کو کالموں میں حوالے زیادہ ملیں گے۔ اکیلے ہم کیوں بھگتیں، آپ کو بھی علم کا یہ بوجھ سہنا پڑے گا۔ خیر یہ تو لائٹر موڈ میں بات کہی۔ ایک اہم کتاب ہے، مائنڈ سیٹ۔ پروفیسر کیرول ڈویک نے اسٹینفرڈ یونیورسٹی میں 30 سال اس موضوع پر تحقیق کی۔ ان کی کتاب مائنڈ سیٹ اب کلاسیک سمجھی جاتی ہے۔
پروفیسر ڈویک کا کہنا ہے کہ بچوں کو 2 طرح کے ذہن سکھائے جاتے ہیں۔ ایک فکسڈ مائنڈ سیٹ جو سمجھتا ہے کہ ذہانت پیدائشی ہے، ناکامی اس کا ثبوت ہے کہ آپ کم ذہین ہیں۔ دوسرا گروتھ مائنڈ سیٹ جو سمجھتا ہے کہ ناکامی سے آدمی سیکھتا ہے، اسے تجربہ ملتا اور اس کی ذہانت بڑھتی ہے۔
امریکی پروفیسر کی زیادہ ریسرچ گوروں ہی پر رہی ہوگی، پاکستان میں ایسی ریسرچ کی جائے تو صرف پہلا نتیجہ ہی نکلے گا۔ ہماری زبان، ہمارا کلچر، ہمارا تعلیمی نظام سب پہلے قسم کے ذہن کو فروغ دیتا ہے۔ ڈویک نے اپنی تحقیق میں یہ دکھایا کہ جن بچوں کو روزانہ تعریف ملی کہ تم بہت ذہین ہو، وہ ناکامی سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ جن بچوں کو یہ تعریف ملی کہ تم نے محنت کی، وہ ناکامی سے ڈرتے نہیں، اس سے سیکھتے ہیں۔ یہ فرق ہماری تعلیم کا بنیادی فلسفہ بدل سکتا ہے۔
ایک واقعہ یاد آ گیا۔ کوئی 4 برس پہلے لاہور کتاب میلہ میں ایک نوجوان کاروباری سے ملاقات ہوئی۔ اس نے درخواست کی کہ اوپر کیفے ٹیریا میں جا کر چند منٹ میرے ساتھ چائے پی لیں۔ کچھ دیر ہم وہاں بیٹھے رہے۔ 30 سال کے لگ بھگ عمر ہوگی، پڑھا لکھا نوجوان تھا، مگر اس کے چہرے پر اداسی اور آنکھوں میں عجب سی شکست خوردگی تھی۔
چائے پیتے ہوئے اس نے ایک سرد آہ بھری اور پھر کہنے لگا، سر ! میں نے 3 سال پہلے اپنا اسٹارٹ اپ شروع کیا تھا۔ کپڑوں کا کاروبار۔ اپنی تمام جمع پونجی لگا دی، کئی لاکھ کا قرض لیا،گاڑی بیچی، بیوی کے زیورات گروی رکھے، دوستوں سے ادھار لیا۔ 2 سال محنت کی، 10 بارہ گھنٹے روزانہ کام کرتا رہا۔ چھٹیاں نہیں لیں، شادی کے بعد ہنی مون منانے نہیں گیا۔ سب کچھ کاروبار میں لگا دیا۔ بدقسمتی یہ کہ کورونا آیا، حالات الٹ گئے ۔ایک سال میں سب کچھ ختم ہو گیا۔ کاروبار رہا نہ گاڑی، نہ زیور، نہ دوستوں کے سامنے کھڑا ہونے کی ہمت۔ اب بیٹھا ہوں، 4 مہینے سے گھر میں ہوں، فجر کے بعد سو جاتا ہوں، ظہر کو اٹھتا ہوں، ساری رات فون پر گزارتا ہوں۔ بیوی نے گھر چلانا شروع کر دیا ہے۔ میرے والد اور بھائی تک ناراض ہیں کہ کاروبار میں ان کا مشورہ نہیں مانا، اپنی مرضی کی تھی۔ مجھے لگ رہا ہے کہ میں پوری دنیا میں اکیلا ہوں، اور میں سب سے بڑا ناکام آدمی ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے ایک گہری سانس لی۔
میں نے اس سے پوچھا، تمہاری زندگی کب شروع ہوئی؟ وہ چونک پڑا، یہ کیسا سوال ہے۔ میں نے کہا، تمہاری زندگی کب شروع ہوئی، ابھی بتاؤ۔ کہنے لگا، 29 سال پہلے، میں پیدا ہوا۔ میں نے کہا، یعنی تمہاری زندگی 29 سال کی ہے۔ تمہارا کاروبار 3 سال چلا اور ختم ہوا۔ تمہارے پاس 29 سال میں سے 26 سال کا تجربہ ہے، ساری دنیا کا تجربہ، اور اب 3 سال کا کاروبار کا تجربہ بھی۔ یہ نقصان نہیں ہے، یہ سرمایہ ہے۔ اس سرمایے کو استعمال کرکے اپنی زندگی اب بھی بدل سکتے ہو۔
میری بات کا معلوم نہیں اس پر کیا اثرہوا، البتہ اس کی آنکھوں میں وہ شکست خوردگی اور ٹوٹ پھوٹ کچھ کم ہوگئی تھی، امید کی چمک نظر آئی۔ اللہ اس کے لیے آسانی پیدا کرے اور اس جیسے بہت سے دیگر کاروباری افراد کے لیے جنہیں زندگی میں کوئی بڑا دھچکا لگا ہو اور ان کے لیے گر کر دوبارہ اٹھنا مشکل ہو رہا ہے۔
مجھے موٹیویشنل اسپیکر کا سا لہجہ اختیار کرنا پسند نہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ کامیاب لوگوں کی زندگی دیکھیں تو ان میں ناکامیوں کا ایک سلسلہ نظر آتا ہے۔ امریکی موٹر کار کے بانی ہنری فورڈ نے فورڈ موٹر کمپنی بنانے سے پہلے 5 کاروبار شروع کیے تھے، اور پانچوں ناکام ہوئے۔ پہلے 2 میں اس کے سرمایہ کار اس سے دور ہو گئے، ان کا کہنا تھا کہ یہ آدمی پاگل ہے۔ تیسرے کاروبار کی فیکٹری جل گئی۔ چوتھا اور پانچواں مالی تنازعات کا شکار ہوا۔ صرف چھٹا کاروبار، فورڈ موٹر کمپنی، جسے اس نے 1903 میں 40 برس کی عمر میں شروع کیا، کامیاب ہوا۔ کامیاب کیسا اس نے تہلکہ مچا دیا۔
اسٹیو جوبز کو ان کی اپنی کمپنی ہی نے 1985 میں نکال باہر کیا گیا تھا تب ان کی عمر 30 برس تھی۔ جوبز مگر پھر واپس آیا اور چھا گیا۔ اسٹیو جوبز پر لکھی کتاب میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ بہت سی دیگر کہانیاں بھی سنائی جا سکتی ہیں،ان سب کا نچوڑ اور آخری سبق یہی رہا کہ ناکامیوں میں سے کامیابی کشید کرنی ہے۔
پاکستان میں بھی اس طرح کی کہانیاں موجود ہیں، مگر ہمارے ہاں ان کا تذکرہ کم ہوتا ہے۔ اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب نے 20 سال قبل صرف 10 ہزار روپے کی رقم سے قرض حسنہ کا کام شروع کیا تھا۔ تب بہت سے لوگ کہتے تھے کہ پاکستان میں قرض حسنہ پروگرام ناکام ہوجائے گا کہ یہاں لوگ قرض لے لیتے ہیں، واپس نہیں کرتے۔ ڈاکٹر صاحب نے گھبرانے اور ناکامی کے خوف کا شکار ہونے کے بجائے مثبت سوچا اور اخوت کا کام بڑھاتے گئے۔ انہوں نے دانشمندی سے مساجد میں تقریبات شروع کیں، قرض لینے والوں پر اخلاقی دباؤ بھی آ جاتا اور احساس ذمہ داری بھی بڑھتی ۔ اجتماعی ذمہ داری کے اصول کو کامیابی سے برتا اور آج اخوت بہت بڑا برانڈ اور ایک عالمگیر سطح پر کامیاب کہانی ہے۔ اخوت کے 100 ارب روپے سے زائد کے قرض حسنہ پاکستان بھر میں چل رہے ہیں، اور ان کی ادائیگی کی شرح 99 فیصد سے زائد ہے۔ اگر ڈاکٹر امجد ثاقب ممکنہ ناکامی کے خوف سے گھبرا جاتے تو اخوت پاکستان کا سب سے بڑا قرض حسنہ کا ادارہ نہ بنتا۔
پاکستان میں اب ایک نئی نسل آ رہی ہے جو سوشل میڈیا پر اپنی ناکامیاں شیئر کرنے لگی ہے۔ یہ نشانی اچھی ہے۔ نوجوان لڑکیاں اور لڑکے فیس بک پر لکھتے ہیں، آج مجھے اس نوکری سے انکار ملا، مگر کوشش جاری ہے۔ کسی کا اسٹارٹ اپ ناکام ہوا، وہ کھل کر بتاتا ہے، کیا غلطیاں ہوئیں، اب کیا سیکھا، اگلی بار کیا مختلف کرے گا۔ یہ ایک نئی ہمت ہے۔ پہلے یہ کہنا شرم تھی کہ نوکری نہیں مل رہی، اب یہ ایک عام اعلان ہے۔ یہ تبدیلی ہمارے کلچر کو سوفٹ بنا رہی ہے اور ساتھ ہی اسے زیادہ مضبوط بھی ۔ اللہ کرے یہ سلسلہ بڑھے۔
میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ کیوں نہ ہم سب اپنی زندگی میں ایک سالانہ روایت ڈالیں، ہر سال کے آخر میں ایک شام بیٹھیں۔ اپنی ڈائری یا ایک کاغذ اٹھائیں اور لکھیں، اس سال میری سب سے بڑی ناکامی کیا تھی، پھر اس کے ساتھ یہ بھی لکھیں، اس ناکامی نے مجھے کیا سکھایا۔
یہ روایت اپنی فیملی کے ساتھ شیئر کریں، بچوں کو بتائیں، بیوی سے سنیں۔ ابتدا میں مشکل ہوگی۔ اپنی ناکامی بتانا ہمارے کلچر میں نہیں ہے۔ مگر کرنے کے بعد ایک ایسی روحانی راحت ملتی ہے جو دوسرے کسی طریقے سے نہیں ملتی۔ ناکامی کے سامنے کھڑے ہو جانا، اسے تسلیم کرنا، اور اللہ کی توفیق سے آگے بڑھ جانا۔
ہم کامیابی کا جشن مناتے ہیں، ناکامی کا بھی منایا جا سکتا ہے، ایک نجی تقریب میں ہی سہی، اسے ڈسکس تو کریں۔ ان شا اللہ آنے والے سال میں آپ پھر یہ تجربہ آزمائیں گے۔ ویسے تو یہ ضروری نہیں کہ اس کام کے لیے دسمبر کا انتظار کیا جائے۔ آپ اسے مئی جون میں بھی کر سکتے ہیں۔ آغاز ہی کرنا ہے، کسی بھی دن کر لیں۔
یاد رکھیے، اپنی زندگی کا سب سے بڑا استاد آپ کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ بس اسے سننا آنا چاہیے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












