امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ نامعلوم ہیکرز نے فیول اسٹوریج ٹینکوں کے مانیٹرنگ سسٹمز میں مداخلت کرتے ہوئے ریڈنگز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہے، جس کے بعد توانائی کے شعبے میں سائبر سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: دنیا کے ڈیجیٹل نظام خطرے میں، اے آئی سے ہونے والے سائبر حملے بے قابو، گوگل کی وارننگ
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیکرز نے ایسے سسٹمز کو نشانہ بنایا جو ایندھن ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں میں فیول کی مقدار، درجہ حرارت اور پریشر کی نگرانی کرتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ حملہ آوروں نے ڈیٹا میں ردوبدل کرکے غلط ریڈنگز ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
امریکی سائبر سیکیورٹی اداروں کے مطابق واقعے کے بعد متعدد فیول تنصیبات کے سسٹمز کا ہنگامی جائزہ لیا گیا، جبکہ حساس انفرااسٹرکچر کی نگرانی مزید سخت کردی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: سائبر حملے سے یورپی ہوائی اڈوں پر بد نظمی، پروازیں تاخیر اور منسوخی کا شکار
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے سائبر حملے نہ صرف سپلائی چین کو متاثر کرسکتے ہیں بلکہ غلط ریڈنگز کے باعث صنعتی حادثات کا خطرہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔
امریکی حکام نے تاحال کسی مخصوص گروہ یا ملک کو حملے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔ دوسری جانب توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کو سائبر سیکیورٹی اقدامات فوری طور پر بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔














