بھارتی صنعتکار انیل امبانی کو ایک اور دھچکا پہنچا ہے کیونکہ بینک آف بڑودا نے ریلائنس کمیونی کیشنز لمیٹڈ اور اس کے سابق ڈائریکٹر امبانی کے قرض اکاؤنٹس کو باضابطہ طور پر’فراڈ‘ قرار دے دیا ہے۔
یہ فیصلہ اسٹاک ایکسچینج میں دائر ایک نوٹس کے ذریعے سامنے آیا ہے اور اس کا تعلق ان قرضوں سے ہے جو اس وقت دیے گئے تھے جب آرکام نے کارپوریٹ دیوالیہ پن اور تصفیے کے عمل میں داخل ہونا ابھی باقی تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 2 ہزار کروڑ کا گھوٹالا، انیل امبانی کے خلاف سی بی آئی کے چھاپے
واضح رہے کہ کبھی بھارت کی بڑی ٹیلی کام کمپنیوں میں شمار ہونے والی آرکام جون 2019 سے ان سولوینسی اینڈ بینکرپسی کوڈ مجریہ 2016 کے تحت دیوالیہ پن کا سامنا کر رہی ہے۔
M/s Reliance Communications under investigation for alleged bank fraud of ₹40,186 crore.
On the complaint of SBI, CBI has registered a case against Anil Ambani and M/s RCOM for allegedly defrauding the bank of ₹2,925 crore.
While the account turned NPA in 2016 and the fraud… https://t.co/1LC895ck5n pic.twitter.com/px9TjRObGH
— Arvind Gunasekar (@arvindgunasekar) August 23, 2025
کمپنی نے وضاحت کی ہے کہ زیرِ بحث قرضے دیوالیہ پن کے اعلان سے پہلے کے ہیں اور اب یہ معاملہ یا تو کسی منظور شدہ تصفیے کے ذریعے یا پھر لیکویڈیشن کے عمل سے طے ہوگا۔
انیل امبانی پہلے ہی آرکام کی ڈائریکٹرشپ سے الگ ہو چکے ہیں، قرض دہندگان کی کمیٹی تصفیے کے پلان کی منظوری دے چکی ہے، تاہم یہ اب نیشنل کمپنی لا ٹریبونل کے فیصلے کی منتظر ہے۔
مزید پڑھیں:رافیل خریداری میں کس نے کتنا مال بنایا؟ کانگریس رہنماؤں نے بھید کھول دیا
اس دوران کمپنی نے کہا ہے کہ وہ بینک آف بڑودا کے اقدام پر قانونی ماہرین سے مشاورت کر رہی ہے، کیونکہ کارپوریٹ دیوالیہ پن اور تصفیے کے عمل کے تحت قانونی کارروائیوں اور نفاذی احکامات سے تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
یہ پیش رفت امبانی گروپ کی مالی مشکلات کو مزید گہرا کر رہی ہے، جو پہلے ہی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی تحقیقات کی زد میں ہے۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ امبانی گروپ کی مختلف کمپنیوں، بشمول ریلائنس ہاؤسنگ فائنانس، آرکام اور ریلائنس کمرشل فائنانس کے خلاف مبینہ طور پر تقریباً 17 ہزار کروڑ روپے مالیت کے قرض فراڈ کی چھان بین کر رہا ہے اور اس نے 12 سے 13 بینکوں سے قرضوں کی تفصیلات طلب کی ہیں۔
مزید پڑھیں:انیل امبانی کے بیٹے کی شادی: مہمانوں کے لیے 2500 ڈشز کا انتظام
بینک آف بڑودا نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں ریزرو بینک آف انڈیا سمیت تمام متعلقہ حکام کو مطلع کرے گا، جیسا کہ مرکزی بینک کی فراڈ رسک مینجمنٹ گائیڈ لائنز میں کہا گیا ہے۔
یہ اقدام اس سے پہلے اسٹیٹ بینک آف انڈیا اوربینک آف انڈیا کے فیصلوں کے بعد سامنے آیا ہے، جنہوں نے جون اور 24 اگست کو آرکام کے قرض اکاؤنٹس کو مبینہ فنڈ منتقلی اور قرض شرائط کی خلاف ورزی کے سبب ’فراڈ‘ قرار دیا تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ تازہ پیش رفت آرکام کی دیوالیہ پن سے متعلق کارروائیوں پر اہم اثر ڈال سکتی ہے اور ساتھ ہی یہ بھارتی بینکاری شعبے کی بڑھتی ہوئی سختی اور کمزور کارپوریٹ اداروں کے خلاف فیصلہ کن رویے کو بھی ظاہر کرتی ہے۔













