خیبرپختونخوا ورکرز ویلفیئر بورڈ نے میٹرک کے امتحانات میں ناقص کارکردگی پر صوبے بھر کے 15 پرنسپل معطل کردیے۔
پرنسپلز کی معطلی کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ یہ معطلیاں سالانہ ایس ایس سی امتحانات میں خراب نتائج دینے کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مایوس کن میٹرک نتائج: خیبرپختونخوا حکومت نے طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے بڑا فیصلہ کرلیا
معطل ہونے والے پرنسپلز میں اکوڑہ خٹک، امان گڑھ، گھوڑیو والا اور ہری پور ون کے اسکول شامل ہیں۔ اسی طرح ہٹٹر، کرک، کوہاٹ وم اور کوہاٹ ٹو کے پرنسپل بھی اس کارروائی کی زد میں آئے ہیں۔
اس کے علاوہ پشاور ٹو، مردان، شہباز عظمت خیل، صوابی اور سوات کے اسکولوں کے پرنسپلز کو معلط کیا گیا ہے، جبکہ تخت بھائی کے ایک ادارے اور ایک ہائیر سیکنڈری اسکول کے پرنسپل کو بھی معطل کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ اسکولوں کے وائس پرنسپل بطور عبوری انتظام اپنی موجودہ تنخواہ اور سکیل پر پرنسپل کی ذمہ داریاں ادا کریں گے، جب تک مزید احکامات جاری نہیں ہوتے۔

تاہم جہاں وائس پرنسپل موجود نہیں، وہاں سکیل 16 یا 17 کا سب سے سینیئر ملازم نائب کی ذمہ داریاں سنبھالے گا۔
خیبرپختونخوا کے وزیر محنت فضل شکور خان نے میڈیا کو بتایا کہ معطلی کا فیصلہ صرف اساتذہ کی کارکردگی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس ان اسکولوں میں صفر فیصد نتائج آئے ہیں۔ محکمے میں اساتذہ کی کمی نہیں، مگر اسلامیات اور پشتو کے علاوہ دیگر مضامین کے ماہرین کی قلت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں بلیو ٹوتھ ڈیوائس کےذریعے نقل کس طرح کروائی جاتی رہی؟
فضل شکور خان کے مطابق محکمے کے بیشتر اساتذہ کا تعلق جنوبی اضلاع سے ہے۔ اور ہمارے عملے کا 80 سے 90 فیصد جنوبی خیبرپختونخوا سے ہے۔ ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اسے اپنے آبائی ضلع میں تعینات کیا جائے، جو عملی طور پر ممکن نہیں۔














