انڈین اداکارہ سے ملاقات کے لیے جانیوالے پاکستانی نوجوان کو بھارتی فوج نے ’دہشتگرد‘ قرار دیدیا

منگل 9 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکام نے ایک اور ذاتی واقعے کو ’دہشتگردی‘ سے جوڑنے کی کوشش کی ہے تاکہ پاکستان کو بدنام کیا جا سکے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بارڈر سیکیورٹی فورس (BSF) نے 7 ستمبر کو جموں کے تحصیل سچیت گڑھ (آر ایس پورہ) سے ایک نوجوان سراج خان کو گرفتار کیا، جو پنجاب (پاکستان) کا رہائشی ہے۔ تلاشی کے دوران اس کے پاس سے صرف 30 روپے پاکستانی برآمد ہوئے۔

بھارتی پولیس نے تفتیش کے دوران خود تصدیق کی کہ سراج خان نے یہ تسلیم کیا کہ وہ محض ایک بھارتی اداکارہ اور سوشل میڈیا انفلوئنسر، اوینیٹ کور سے ملنے کے جنون میں سرحد پار آیا۔ اس واضح اعتراف کے باوجود بھارتی پولیس اور انٹیلی جنس ادارے اس واقعے کو ’سکیورٹی خطرہ‘ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نئی دہلی کی اس عادت کو ظاہر کرتا ہے جس کے تحت معمولی واقعات کو بڑھا چڑھا کر پاکستان مخالف پروپیگنڈا بنایا جاتا ہے۔

ان کے مطابق یہ جھوٹا بیانیہ نہ صرف عام شہریوں کو مجرم بنا دیتا ہے بلکہ بھارت کی اس بوکھلاہٹ کو بھی بے نقاب کرتا ہے جو ’دراندازی‘ کے بیانیے کو زندہ رکھنے کے لیے دکھائی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لگژری گاڑیوں پر ٹیکس ریلیف نہیں ملے گا، متوسط طبقے کو سہولت دیں گے، مصدق ملک

پولینڈ میں ایک شخص کی اندھا دھند فائرنگ،5 افراد ہلاک، درجن سے زیادہ زخمی

ایران کے زمینی اور بحری راستوں کی نگرانی بڑھانے کے لیے امریکا کا نئی ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان

ایران کے ایٹمی راز بتانے والے کو 20 ملین ڈالر اور محفوظ پناہ دی جائے گی، امریکا کا اعلان

طالبان ترجمان ذبیع اللہ کا ’داعش‘ کے مکمل خاتمے کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد نکلا، 2 ہزار دہشتگردوں کی موجودگی برقرار

ویڈیو

سُرتال اکیڈمی کے بچوں کی بھارت سمیت دنیا بھر میں دھوم

اسموگ کے خاتمے کے لیے لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا دائرہ وسیع، لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ترقی کے سفر میں لیہ کب شامل ہوگا؟ شہری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے منتظر

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟