وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کا دورہ کیا ہے، جہاں ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے افغانستان پر واضح کردیا ہے کہ پاکستان اور خارجیوں میں سے کسی ایک انتخاب کرے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 35 دہشتگرد ہلاک، 12 جوان شہید
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آج بنوں کا دورہ کیا، جہاں دہشتگردی سے متعلق اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنوبی وزیرستان آپریشن میں 12 شہدا کی نماز جنازہ میں بھی شرکت کی۔

سیکیورٹی ذرائع نے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے دہشت گردوں کے سرغنہ اور سہولت کار افغانستان میں ہیں اور ان کی پُشت پنائی ہندوستان کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ دہشتگردی کا بھرپور جواب جاری رہے گا اور اس میں کسی قسم کا کوئی ابہام برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ افغانستان کو واضح کر دیا گیا ہے کے خارجیوں اور پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کر لیں۔
انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے واقعات میں افغان باشندے شامل ہیں جو افغانستان سے پار آ کر پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔ غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کا جلد انخلا انتہائی اہم ہے۔
شہباز شریف نے کہاکہ پاکستانی قوم دہشت گردی کے معاملے پر سیاست اور گمراہ کن بیانیے کو مکمل طور پر رد کرتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ جو بھی خارجیوں اور ہندوستان کی دہشت گرد پراکسیوں کی سہولت کاری اور معاملہ فہمی کی بات کرتا ہے وہ انہی کا اعلیٰ کار ہے اور اُسے بھی اسی زبان میں جواب دیا جائے گا جس کا وہ حق دار ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے غیور عوام، ریاست اور افواج پاکستان کے ساتھ ملکر ہندوستان کی ان پراکسیوں کے خلاف بنیان مرصوص کی طرح متحد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت کا وفد افغانستان جانے کو تیار، کیا امن و امان میں بہتری آسکتی ہے؟
انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف مزید مؤثر جواب دینے کے لیے جو ضروری انتظامی اور قانونی اقدامات کرنے پڑے وہ فوراً کریں گے۔
وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے بنوں سی ایم ایچ میں زخمیوں کی عیادت بھی کی۔ جبکہ پشاور کے کور کمامڈر نے علاقے کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلاً بریفنگ دی۔













